اقتدار کے لئے مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کی کوشش نہ کریں ملائم سنگھ یادو: مسلم فورم

01:47PM Wed 31 Aug, 2016

اقتدار کے لئے مسلمانوں کے خون کی ہولی بھی کھیل سکتے ہیں ملائم سنگھ یادو: ڈاکٹر جسیم محمد علی گڑھ29؍اگست: فورم فار مسلم اسٹڈیز اینڈ اینالائسس( ایف ایم ایس اے) نے سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو کے ایودھیا میں’’ کارسیوکوں‘‘ پر ان کے دورِ اقتدار میں کی گئی فائرنگ سے متعلق بیان پر سخت ردِّ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملائم سنگھ یادو مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کی کوشش نہ کریں۔ ایف ایم ایس اے کے ڈائرکٹر ڈاکٹرجسیم محمد نے کہا کہ ملائم سنگھ مسلمانوں کے جذبات کو برانگیختہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسے وقت میں جبکہ اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات نزدیک آتے جا رہے ہیں ملائم سنگھ یادو کو اس قسم کا بیان دینے کیا ضرورت تھی یہ ہر ذی عقل کے فہم سے بالا تر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملائم سنگھ یادو اتر پردیش میں اپنی پارٹی کے وزیرِ اعلیٰ اور اپنے بیٹے اکھلیش یادو کو ہدایت دیں کہ وہ اتر پردیش کو ابتر پردیش بننے سے روکیں۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کی صوبائی حکومت ہر سطح پر فیل ہوچکی ہے اور اسمبلی انتخابات قریب دیکھ کر اس کے چیف ملائم سنگھ یادو بوکھلا گئے ہیں اور سمجھ گئے ہیں کہ ان کے پاس مسلمانوں کو ورغلانے کے سوا کوئی دیگر چارہ نہیں ہے اور اسی لئے وہ فرقہ پرستی پر مبنی بیانات دے کر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملائم سنگھ یادواقتدار کے لئے مسلمانوں کے خون کی ہولی بھی کھیل سکتے ہیں۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے پاس سوائے ہندو مسلم فسادات کے اور کوئی کوالیفکیشن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے دورِ اقتدار میں اتر پردیش میں جو افراتفری کا ماحول قائم ہے اس نے صوبائی عوام کے سکون کو درہم برہم کر رکھا ہے جس پر ملائم سنگھ یادو یا ان کے فرزند کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں بلکہ انہیں صرف اور صرف2017میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی فکر ہے جس کے لئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں جس کا بین ثبوت ان کا حالیہ بیان ہے۔ڈاکٹر جسیم محمد نے ملک بھر کے سیکولر، امن پسند اور مسلم لیڈران سے اپیل کی ہے کہ وہ ملائم سنگھ یادو کے حالیہ بیان میں چھپی فرقہ وارانہ چال پر غور فرماکر مسلم قوم کوسماجوادی پارٹی کی سازش سے باز رکھنے کے لئے جدو جہد کریں تاکہ اتر پردیش میں پر امن ماحول بنا رہے جبکہ ملائم سنگھ یادو صوبہ میں فسادات کرانے کی منظم سازش کرکے اپنے لئے انتخابی ماحول تیار کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ سماجوادی پارٹی نے انتخابات کے دوران مسلمانوں کو18فیصد ریزروریشن دینے کا وعدہ کیا تھا جو آج تک پورا نہیں ہوسکا۔ ملائم سنگھ یادو کو چاہئے کہ وہ فرقہ پرستی پر مبنی بیانات دے کر مسلمانوں کی توجہ ریزرویشن سے ہٹانے کی کوشش نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کی موجودہ حکومت کے چار سالہ دور میں اتر پردیش کے مسلمانوں کی فلاح کے میدان میں کوئی بھی کام نہیں ہوسکا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئے دن موجودہ صوبائی حکومت بنکروں اور دیگر مسلم طبقات کی بات کرتی ہے جبکہ صوبہ میں سب سے خراب حالت بنکروں کی ہے جس پر کوئی عملی کام نہیں ہوسکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت اتر پردیش میں لاء اینڈ آرڈر جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور صوبائی عوام سڑکیں تو کجا گھروں میں بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتی۔انہوں نے کہا کہ اس حکومت کے چار سالہ دور میں اتر پردیش میں جس قدر فسادات ہوئے ہیں وہ صوبہ کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ملائم سنگھ یادو کو اترپردیش میں بڑے پیمانے پر چل رہی غنڈہ گردی، فرقہ وارانہ فسادات اور مسلمانوں کی بد حالی پر توجہ کرنی چاہئے ۔