مساجد کے متولی حضرات سماج اور سرکار کے درمیان پل کاکام انجام دیں : متولی کانفرنس میں مقررین کا اخطاب

10:14AM Thu 24 Aug, 2017

بنگلور:( بھٹکلیس نیوز) نئے وقف ایکٹ کے ذریعہ اوقاف کے تحفظ اور ترقی سے متعلق جانکاری اور بیداری پیدا کرنے کے لئے تمام اضلاع میں متولی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا ۔ یہ بات وزیر اوقاف جناب تنویر سیٹھ نے آج یہاں بنگلور شہری ودیہی اور چکبا لاپور اضلاع کے متولی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے بتایا کہ اوقاف کے تحفظ اور ترقی کیلئے نیا وقف ایکٹ ایک تحفہ ہے جس کو بنانے اور منظور اکرانے میں رکن پارلیمان اورسابق مرکزی وزیر جناب کے رحمن خان نے اہم رول ادا کیا ہے جناب تنویر سیٹھ نے بتایا کہ نئے وقف ایکٹ کے تحت کام کرنے کیلئے وقف رولس کی ضرورت ہوتی ہے ہم نے وقف رولس بنائے ہیں اور کرناٹک پہلی ریاست ہے جو نئے ایکٹ کے نئے رولس مرتب کئے ہیں۔ متولی حضرات کو نئے رولس سے بھی آگاہ کیا جانا ضروری ہے ۔ وزیر اوقاف نے بتایا کہ جس طرح ڈسٹر کٹ وقف کمیٹی ہے اسی طرح تعلقہ سطح پر وقف کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گے۔ اس سے اوقاف کے علاوہ سرکاری اسکمیوں کو لوگوں تک پہنچانے کاکام انجام دی جاسکتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں وقف ٹاسک فورس قائم ہے جس سے اوقاف کی نگرانی اور تحفظ میں مدد لی جاسکتی ہے۔ اوقاف کا سروے ، رجسٹریشن اور ریکارڈس کی درستی وغیرہ کاکام تیزی سے چل رہا ہے انہوں نے متولیوں سے کہا کہ وہ اپنے اپنے ادارے کا اسکیم آف مینجمنٹ بنائیں ا س سے عارضی کمیٹوں کی بجائے مستقل کمیٹیاں تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔ جناب تنویرسیٹھ نے بتایا کہ ریاست میں تقریباً251وقف کی ایسی متنازعہ جائیدادین ہیں جس پر بلدیہ والوں کا قبضہ ہے اور ہمیشہ کشیدگی کا سبب بنتا ہے ہم نے اس کو حساس جائیدا دین قرار دے کر اس کی حصا ربندی کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ اس موقع پر کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ اور رکن پارلیمان مسٹر ویراپا موئیلی نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ جس وقت جناب رحمن خان مینارٹی کمیشن کے چیرمین تھے انہوں نے ریاست میں اقلیتوں کا ایک سروے کرایا تھا اور اسی سروے کے اعدادوشمار پر ان کی حکومت نے ریاست میں اقلیتوں کیلئے چھ فیصد ریز رویشن کی سفارش کی تھی بعد میں چار فیصد ریزرویشن کیلئے ان کی حکومت نے منظوری دی تھی مسٹر موئیلی نے متولیوں سے مخالطب ہو کر کہا کہ آپ چھوٹی چھوٹی باتوں میں اختلاف کو چھوڑ کر متحدہ ہوجائیں آپ کا متحد ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ آج ملک میں فرقہ پرست طاقتیں آپ کی وطنیت پر انگلی اٹھا رہی ہیں اور کہاکہ اقلیتوں کے ساتھ نا انصافی پورے ملک کا نقصان ثابت ہوگی۔ مسٹر موئیلی نے متولیوں سے کہا کہ آپ سماج اور سرکار کے درمیان پل کاکام انجام دیں۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا کی حکومت اقلیتوں اور دیگر طبقات کی بہبودی کیلئے جو اسکیم جاری کی ہیں ان اسکیموں کو عوام تک پہنچا ئیں۔ اس موقع پر وزیر خوراک یوٹی قادر نے متولی حضرات سے کہا کہ آپ صرف مساجد تک محدود نہ رہیں اپنے اپنے محلہ اور علاقہ میں قوم کاکام کریں سماج اور سرکاری کے بیچ پل کی حیثیت سے سرکاری اسکمیوں کو عوام تک پہنچائیں۔ گروہوں میں بٹ کررہنے کی بجائے متحد ہو کر کام ریں اتحاد آج وقت کی ضرورت ہے جناب قادر نے وزیر اوقاف کو مشورہ دیا کہ ائمہ وموذنین کو جہاں اعزازایہ دیا جارہا ہے وہاں ایک چھوٹی دوکان چلانے کیلئے سرمایہ بھی دیا جائے تاکہ وہ فاضل وقت میں روزگار کیلئے چھوٹی تجارت بھی کرسکے۔ جناب قادر نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ فرقہ پرستی کا جواب فرقہ پرستی سے نہ دیں اس سے قوم کا بڑا نقصان ہوگا ۔آج فرقہ پرست طاقتیں حیلے بہانے تلا ش کررہی ہیں۔ اس موقع پر رکن کونسل جناب عبدالجبار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے تعلیم کے لئے لاکھوں روپئے کا فنڈ دیا جارہا ہے نرسری سے لیکر میڈیکل تک اسکالرشپ دی جارہی ہے اس کے باوجود ہم تعلیمی میدان میں پیچھے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دیوراج ارس کے زمانہ میں وقف کیلئے صرف ایک لاکھ روپئے کا بجٹ تھا آج ایک سو کروڑ روپئے کا بجٹ ہے موجودہ حکومت اقلیتوں کی بھلائی کیلئے کئی اسکیموں پر کام کررہی ہے ہمیں اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے ۔ انہوں نے متولی حضرات سے کہا کہ مسجد کو مرکزبنا کر کام کریں اپنے اپنے محلہ کا سروے کرے مسلمانوں کا جائزہ لیں ۔ اس کانفرنس میں جناب سلیم احمد سابق یم یل سی جناب محمد محسن سکریڑی مینارٹی ویلفیر ڈپارٹمنٹ ، مینارٹی کمیشن کے چیرمین جناب نصیر احمد، بنگلور اربن ڈسٹر کٹ وقف کمیٹی کے چیرمین جناب سید شجاع الدین، رول ڈسٹر کٹ کے چیرمین جناب یس بی باشاہ ، چکبالاپور ڈسٹر کٹ وقف کمیٹی کے چیرمین جناب رفیع اللہ وقف بورڈ کے سی ای او جناب ذوالفقار اللہ وغیرہ شریک تھے۔