گزشتہ تین سال سے تنخواہ سے محروم مدارس کے اساتذہ ایک بار پھر پہنچے دلی، درج کرایا اپنا احتجاج

12:44PM Thu 31 Jan, 2019

وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کی مدرسہ جدیدکاری اسکیم سے جڑے مدارس کے اساتذہ کی تنخواہوں کا معاملہ ابھی تک حل نہیں ہوا ہے۔ ان اساتذہ نے آج یہاں اسلامک مدرسہ جدید کاری اساتذہ ایسوسی ایشن آف انڈیا کے بینر تلے متعلقہ وزارت کے سامنے احتجاج کیا اور حکومت سے بقایا تنخواہیں جلد از جلد ادا کرنے کی گہار لگائی۔ ان اساتذہ نے کہا کہ پچھلے تین برسوں سے تنخواہیں نہ ملنے سے وہ کافی پریشان ہیں اور انہیں فاقہ کشی تک کی نوبت آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کے افسران ان کے تئیں سردمہری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور ان کی تنخواہیں جاری نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہاں تنخواہیں دو ، پرکاش جاوڑیکر تنخواہیں دو کے نعرے لگائے۔ بتا دیں کہ پچھلے تین سال کی بقایا تنخواہ کے مطالبہ کو لے کر یہ اساتذہ اس سے پہلے کل ایک بار پھر نئی دلی کے جنتر منتر پہنچے تھے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے حالات بد سے بدتر ہو گئے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت ہمارے حالات بہتر کرنے کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ حال ہی میں اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کے اعلان پر بھی انہوں نے شک ظاہر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض لالی پاپ ہے ۔ ایسا کر کے ہمیں بہلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یوپی کے مختلف اضلاع سے آئے ان اساتذہ نے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں اب ہمارا گزر بسر کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ تنخواہیں نہ ملنے سے ہماری ضروریات زندگی بھی پوری نہیں ہو پا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی آواز حکومت تک پہنچانے کے لئے ہم یہاں آئے ہیں۔ اگر ہماری آواز سنی نہیں گئی تو پھر ہم کوئی اور اگلا قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔