بابری مسجد معاملہ : سپریم کورٹ کا فیصلہ ، مسجد میں نماز کا معاملہ بڑی بینچ کو نہیں بھیجا جائے گا
02:30PM Thu 27 Sep, 2018
Share:
سپریم کورٹ نے بابری مسجدم-رام جنم بھومی تنازعہ سے وابستہ اس معاملہ پر فیصلہ سنا دیا ہے، جس میں یہ طے کیا جانا تھا کہ نماز کا مسجد میں پڑھنا اسلام کا لازمی جز ہے یا نہیں۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی قیادت والی تین رکنی بنچ نے اپنا فیصلہ سنایا۔ جسٹس اشوک بھوشن اور چیف جسٹس دیپک مشرا کا فیصلہ پڑھ کر سنایا جبکہ جسٹس نظیر نے اپنا فیصلہ علیحدہ سے پڑھا۔جسٹس اشوک بھوشن اور چیف جسٹس نے اس معاملہ کو بڑی بینچ کو بھیجنے سے انکار کردیا جبکہ جسٹس عبد النذیر نے بڑی بینچ کو بھیجنے سے اتفاق کا اظہار کیا ۔
جسٹس بھوشن نے اپنا اور چیف جسٹس اشوک بھوشن کا فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ ںکو بڑی بنچ کے پاس بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ 1994 کا جو فیصلہ آیا تھا ، ہمیں اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وہ معاملہ صرف لینڈ ایکویزیشن سے وابستہ تھا اور اسی حساب سے فیصلہ دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ عدالت نے اس سے قبل 20 جولائی کو اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا کہ آئینی بینچ کے 1994 کے فیصلے پرپھرغورکرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ عدالت نے کہا تھا کہ پہلے یہ طے ہوگا کہ آئینی بینچ کے 1994 کے اس فیصلے پرپھرسے غورکرنے کی ضرورت ہے یا نہیں کہ مسجد میں نماز پڑھنا اسلام میں لازمی ہے یا نہیں۔ اس کے بعد ہی متنازعہ زمین کے مالکانہ حق پرغورہوگا۔