شاہین باغ: سپریم کورٹ نے سنجے ہیگڑے کو دی مظاہرین کو سمجھانے کی ذمہ داری، آئندہ سماعت 24 فروری کو

04:01PM Mon 17 Feb, 2020

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ (Supreme Court) میں شاہین باغ (Shaheen Bagh) میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دھرنے پر بیٹھے احتجاجیوں کو ہٹانے کی عرضیوں پر آج سماعت ہوئی۔ کورٹ نے کہا کہ آپ کو مخالفت کرنے کا حق ہے لیکن اس کے لئے آپ سڑک جام نہیں کر سکتے۔ عدالت نے اس معاملہ میں سینئر وکیل سنجے ہیگڑے کو مظاہرین کو منانے کی ذمہ داری دی ہے۔ وہیں، سینئر وکیل سنجے ہیگڑے کے ساتھ وکیل سادھنا رام چندرن کو بطور مذاکرات کار یعنی ثالث مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وجاہت حبیب اللہ، چندرشیکھر آزاد اس دوران مذاکرات کاروں کی مدد کریں گے۔ ساتھ ہی دلی پولیس کمشنر کو اس معاملہ میں حلف نامہ دینے کو کہا ہے۔ اب اس معاملہ کی آئندہ سماعت 24 فروری کو ہو گی۔ عدالت نے دوسرے فریق کو سننے کے دوران کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ احتجاج نہیں کیا جا سکتا۔ سوال یہ ہے کہ احتجاج کہاں ہونا چاہئے؟ ہر کوئی سڑک پر اتر جائے گا تو کیا ہو گا؟ سپریم کورٹ نے کہا’ جمہوریت لوگوں کے اظہار رائے کی آزادی سے ہی چلتی ہے، لیکن اس کی ایک حد ہے۔ اگر سبھی سڑک بند کرنے لگیں تو پریشانی کھڑی ہو جائے گی۔ آپ دلی کو جانتے ہیں لیکن دلی کے ٹریفک کو نہیں۔ ٹریفک بند نہیں ہونا چاہئے۔ آپ کو احتجاج کا حق ہے لیکن سڑک جام کرنے کا نہیں‘۔ ’سڑک کو بلاک نہیں کر سکتے‘ عدالت نے کہا ’ اگر ہر کوئی عوامی سڑک کو بلاک کرنے لگے بھلے ہی وجہ کوئی بھی ہو  تو کیا ہو گا؟ ہماری تشویش اس بات پر ہے کہ احتجاج سڑک پر کیا جا رہا ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ اس کیس یا دوسرے کیس میں سڑک کو بلاک نہیں کیا جا سکتا‘۔
 عدالت عظمیٰ نے کہا کہ صرف شاہین باغ معاملہ میں ہی نہیں، اگر کسی دوسرے کیس میں بھی سڑک بند کر احتجاج کیا جائے گا تو افراتفری مچے گی۔ اس طرح روڈ بلاک کر احتجاج کرنے سے دوسرے لوگوں کو بھی اس کا آئیڈیا آئے گا۔
بتا دیں کہ دلی کے شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون اور قومی شہری رجسٹر کے خلاف پچھلے دو ماہ سے زائد مدت سے احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ اس کی وجہ سے روڈ 13اے بند ہے۔ یہ روڈ دہلی اور نوئیڈا کو جوڑتی ہے۔ سڑک بند ہونے کی وجہ سے نوئیڈا اور دہلی کے درمیان متبادل روڈ پر سفر کرنے والوں کو بھاری ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لوگوں کو ہو رہی اس پریشانی کے خلاف وکیل امت ساہنی اور بی جے پی لیڈر نند کشور گرگ نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔