سی بی آئی کے رشوت لینے کے معاملے پرراہل گاندھی کا طنز، وزیراعظم مودی کے پسندیدہ تھے استھانا

12:07PM Mon 22 Oct, 2018

سی بی آئی کے اسپیشل ڈائریکٹرراکیش استھانا کے خلاف ایف آئی آردرج ہونے کے بعد کانگریس صدر راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندرمودی کے خلاف نشانہ سادھا۔ راہل گاندھی نے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ "وزیراعظم کے پسندیدہ، گجرات کیڈرافسر، گودھرا ایس آئی ٹی کے مشہور، سی بی آئی میں نمبر-2 عہدے دراندازی کرنے والے اب رشوت خوری معاملے میں پھنس گئے ہیں۔ موجودہ وزیراعظم کی کمان میں سی بی آئی سیاسی دشمنی نبھانے کا ہتھیاربن گئی ہے۔ یہ ادارہ مسلسل گراوٹ کی طرف ہے جو خود سے خود کی لڑائی لڑرہی ہے۔ سی بی آئی نے اپنے ہی اسپیشل ڈائریکٹراورجانچ ایجنسی میں نمبر-2 کی حیثیت رکھنے والے راکیش استھانا پر3 کروڑ کی رشوت لینے کا کیس کیا ہے۔
 حالانکہ معاملہ صرف اتنا نہیں ہے، اس کیس سے الگ اس میں سی بی آئی کے سب سے اعلیٰ افسرآلوک ورما اوراستھانا کے درمیان لڑائی کا معاملہ بھی ہے۔ سی بی آئی نے استھانا پردرج ایف آئی آرمیں گوشت تاجرمعین قریشی سے تین کروڑروپئے رشوت لینے کا الزام عائد کیا ہے۔ حیدرآباد کے ایک تاجرستیش بابو سنا کی شکایت کی بنیاد پرسی بی آئی کے دوسرے نمبر کے اعلیٰ افسرراکیش استھانا پردرج ایف آئی آرمیں اس بات کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے سی بی آئی اسپیشل ڈائریکٹرکوگزشتہ سال تقریباً تین کروڑ روپئے دیئے تھے۔
ستیش بابو کا یہ بیان سی آرپی سی کی دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے درج کرایا گیا ہے، جو کہ کورٹ میں بھی قابل قبول ہوگا۔ معین قریشی سے 50 لاکھ روپئے لینے کے معاملے میں ستیش بھی جانچ کے گھیرے میں تھا۔ اس معاملے کی جانچ کے لئے تشکیل ایس آئی ٹی کی قیادت راکیش استھانا کررہے تھے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال ڈی ایس پی دیویندرکمارکے ذریعہ کی گئی پوچھ گچھ میں دبئی کے ایک انویسٹمنٹ بینکرمنوج پرساد نے انہیں سی بی آئی سے ان کے اچھے تعلقات کے بارے میں بتایا تھا۔