گورکھپور کے ایس ایس پی کو معطل کئے جانے سے پولیس محکمہ میں بھاری ناراضگی!۔

12:59PM Thu 16 Jun, 2016

نئی دہلی۔ پولیس تھانے میں سماج وادی پارٹی کے لیڈر کی پٹائی کو لے کر گورکھپور کے ایس ایس پی اننت دیو اور دوسرے پولیس اہلکاروں کو معطل کئے جانے سے یوپی پولیس محکمہ میں بھاری ناراضگی ہے۔ اسے لے کر پولیس افسر اپنی ناراضگی سوشل میڈیا کے ذریعے ظاہر کر رہے ہیں۔ حال ہی میں متھرا میں دو جانباز افسروں کو اپنی جانیں گنوانی پڑی تھیں۔ دو درجن سے زیادہ لوگ بھی مارے گئے تھے۔ لیکن حکومت نے نہ تو متھرا کے ڈی ایم کے خلاف کوئی کارروائی کی نہ ہی ایس ایس پی کے خلاف۔ دونوں کا محض تبادلہ کر دیا گیا۔ ایسے میں ایک لیڈر کے خلاف پولیس کارروائی کے بعد ایس ایس پی کی معطلی کو لے کر سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔ پولیس محکمے میں بھی اس کارروائی کے بعد زبردست غصہ ہے۔ انسپکٹر اکشے کمار اور آمود کمار سنگھ نے اپنی وال پر اننت دیو کی تصویر شئیر کی ہے اس تبصرہ کے ساتھ کہ وہ انکاؤنٹر اسپیشلسٹ ہیں اور انہوں نے ددوا-ٹھوكيا سمیت 60 مجرموں کو مار گرایا۔ انسپکٹر انرودھ سنگھ نے لکھا ہے کہ یوپی پولیس اب تک 11 سو بار پٹ چکی ہے، لیکن بہادر اننت دیو نے غنڈوں کی غنڈئی کا ریکارڈ بریک کیا تو معطل ہو گئے۔ انرودھ نے یہ بھی لکھا ہے کہ غنڈوں کی حمایت میں اتنے لوگ ہیں، نہیں سدھر سکتا لاء اینڈ آرڈر۔ سابق آئی پی ایس ایس آر دارا پوری نے لکھا ہے کہ ایسی پٹائی تو تھانوں میں ہر روز ہوتی ہے، اگر گورو ایس پی لیڈر کا بیٹا نہیں ہوتا تو کیا کارروائی ہوتی۔ اے ڈی جی امیتابھ ٹھاکر نے لکھا ہے کہ غیر قانونی قبضہ، غنڈہ گردی، کھلے عام فائرنگ، تھانے میں گھس کر گالیاں دینا، حکمراں پارٹی کے لیڈر کا حق ہے، لیکن اگر پولیس کارروائی ہو تو مہاپاپ، جے ہو جمہوریت۔ گزشتہ چار سالوں میں پولیس پر ایک ہزار سے زیادہ حملے ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں مکل دویدی، ضیاء الحق اور سنتوش یادو جیسے بہت سے جانباز افسروں کو اپنی جان تک گنوانی پڑی ہے۔ ظاہر ہے پولیس کا حوصلہ ٹوٹا ہوا ہے۔ ایسے میں اس کارروائی کا بھی اثر پولیس محکمے پر ضرور پڑے گا۔