امن کی فضا بحال کرنے کیلئے علم تصوف کو عام کرنا ہوگا
01:06PM Tue 4 Apr, 2017
کرناٹک اردو اکاڈمی کی جانب سے اردو ادب میں تصوف کے عنوان پر منعقدہ سمینار میں مقررین کا خیال
بنگلورو:4؍اپریل(راست) کرناٹکا اردو اکاڈمی کی جانب سے اتوار کے دن دوپہر 3.30 بجے بمقام انسٹی ٹیوٹ آف اگریلچرل ہال ، کوئنس روڈ بنگلورو میں منعقد ہوا ۔ اردو ادب میں تصوف کے عنوان پر منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مختار احمد نوری المعروف نوری بابا میسورو جو مقرر خصوصی کی حیثیت سے خطاب کر رہے تھے ، انہوں نے تصوف کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے اولیائے کرام کی جانب سے کئے گئے خدمات اور بزرگانِ دین کے آستانوں میں جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی و یکجہتی کا منظر دیکھنے کو ملتا ہے اس کیلئے علم تصوف ہی ذمہ دار ہے ۔ مولانا نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج جو ملک کے حالات بدلتے نظر آہے ہیں اس کیلئے علم تصوف کو عام کرتے ہوئے امن کی فضا بحال کی جاسکتی ہے او ربزرگانِ دین کے تعلیمات کو پھر ایک مرتبہ برادران وطن کے روبرو پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ صدارتی خطاب میں اکیڈمی کے چیرمین عزیز اﷲ بیگ آئی اے ایس نے بھی علم تصوف کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور آج جن مقالہ نگارو ں نے مختلف عنوانات کے تحت تصوف کی اہمیت پر جو پیغام دیا ہے اسے عام کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اردو اکاڈمی اس طرح کے اجلاس کروانے کیلئے ہمیشہ تیار ہے ۔ او رمختلف مقالہ نگارو ں کی جانب سے کی گئی کوششوں کو سراہا ۔ رجسٹرار کرناٹک ارو اکلاڈمی سراج احمد خالد نے اپنی استقبالیہ تقریر میں چیرمین اکاڈمی اور دیگر معزز مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اکیڈمی کی جانب سے سالء 2017 کے مالیاتی سال کا یہ پہلا اجلاس ہے او رہم نے اردو ادب میں تصوف کے عنوان سے اس سمینار کے انعقاد کو ضروری سمجھا ، کیونکہ آج تصو ف کے بارے میں آگاہی کی سخت ضرورت ہے ۔ انہو ں نے تیقن دیا کہ اکیڈمی اردو ادب کی خدمت کیلئے اور خدمت کرنے والو ں کیلئے ہر طرح کا تعاون دینے ہمیشہ پیش پیش رہے گی ۔ آج کے مقالہ نگار ڈاکٹر اقبال احمد شہباز نے بعنوان مختلف مذاہب میں یکجہتی کا پیغام کے تعلق سے بہت ہی تفصیلی طو رپر مختلف مذاہب میں جو یکجہتی کا پیغام دیا گیا ہے اس کو تفصیل سے پیش کیا او رکہا کہ ہندوستان میں کوئی بھی زبان کسی کی وراثت نہیں ہے ، ہر مذہب سچائی کا پیغام دیتا ہے ، بہرکیف ڈاکٹر شہباز صاحب کا مقالہ کافی جاندار رہا ۔ اسی طرح ایک او رمقالہ نگار ڈاکٹر فاروق حبان قاسمی نے تصوف کسے کہتے ہیں ؟ کے عنوان پر بہت ہی مختصر مگر اہم نکات پر مشتمل مقالہ پیش کیا جسے کافی پسند کیا گیا ۔ آپ نے بتایا کہ تصوف اور راہ سلوک قرآن سے ثابت ہے ، تصوف اعمال کی روح ہے ۔ تصوف کوئی مسلک نہیں ، یہاں پر انسان کو یہ پیغام ملتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کارآمد بنا کر دیگرانسانوں کے ساتھ بہتر سلوک کریں ۔ محترمہ مہہ نور زمانی صاحبہ نے بھی بعنوان تصوف چند باتیں ، چند وضاحتیں کے نام سے مقالہ پیش کیا ، انہو ں نے بھی سچے پیر کی تلاش کو ضروری قرار دیا ۔ اور تصوف کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ۔ جناب عبداﷲ سلمان ریاض صاحب نے بھی اردو ادب میں تصوف کے عنوان پر کافی تفصیل سے ایک طویل مقالہ لکھا تھا ، وقت کی تنگی کے سبب صرف چند نکات پر روشنی ڈالی جسے کافی پسند کیا گیا ہے ۔ ایک اور مقالہ نگار عزیزی سید منصور علی خان ابن مولانا مظہر علی خان نے بعنوان ’’ تاریخ اردو ادب صوفیائے کرام کے نام سے مقالہ پیش کیا ، جسے حاضرین نے کافی پسند کیا ۔ جناب منیر احمد جامیؔ کی نظامت میں یہ پروگرام عمل میں آیا اور آپ نے حضرت شیخ سعدیؒ کی مناجات کے چند اشعار سنا کر کارروائی کا آغاز کیا اور آج کے اس پروگرام کی غرض و غائت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ تصوف کے موضوع پر پہلے فارسی میں کئی کتابیں موجود ہیں ، اسکے بعداسے اردو میں منتقل کیا گیا او رکہا کہ نیک اخلاق ہی کو تصوف کہتے ہیں ۔ آپ نے بتایا کہ ہندوستان کو آنیوالے صوفیائے کرام نے یہاں اسلام کے پیغام کو عام کرنے کیلئے یہاں کے رہن سہن اور زبان کو اپنایا اور گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے میں کافی اہم رول ادا کیا ۔ غیر مسلم سنتو ں نے بھی انسانی ہمدردی کے پیغام مساوات اور رواداری کے ماحول کو بنائے رکھنے میں کافی دلچسپی دکھائی ۔مہمانِ اعزازی ڈاکٹر انور شریف جنرل سکریٹری سنی جمیعۃ العلماء نے آج کے اس پروگرام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج خانقاہی نظام کو عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قومی یکجہتی کے پیغام کو عام کیا جاسکے ۔ آپ نے اردو اکاڈمی کے رجسٹرار سراج احمد خالد چیرمین عزیز اﷲ بیگ صاحب اور دیگر ذمہ داران کو اس کامیاب پروگرام کے انعقاد کیلئے مبارک باد پیش کی ، اس اجلاس میں کئی ادبی شخصیات ، کالج کے لکچرارس ، خانقاہوں کے ذمہ داران ، شعراء و صحافی حضرات شریک رہے ، آخر میں صوفی سنگیت کے نام سے جناب فیاض خان اینڈ پارٹی نے تصوف پر کلام پیش کیا ، یہ پروگرام کافی کامیاب اور دلچسپ رہا ۔