الامین ڈاکٹر ممتاز احمد خان پی یو کالج کولار میں ’’عالمی یومِ ماحولیات‘‘ منایا گیا۔

05:04PM Mon 5 Jun, 2017

کولار(بھٹکلی نیوز) آج صبح 11-30 بجے الامین ڈاکٹر ممتاز احمد خان پی یو کالج،کولار میں ’’عالمی یومِ ماحولیات ‘‘ منایا گیا۔ اس جلسہ کی صدارت ڈاکٹر ہچ،محمد کلیم اللہ شادؔ ، اردو لکچرار نے کی، کالج کی ’’ایکو کلب ‘‘ کی صدر محسینہ بیگم نے جلسہ کا افتتاح کرتے ہوئے مہمانوں کا استقبال کیا۔ انگلش لکچرار ریاض احمد نے جلسہ کی نظامت کے فرائض ادا کئے۔ ضیاء رومانی کرناٹک کے ایک معروف اردو افسانہ نگاراور سابقہ وائس پرانسپال الامین کالج ،کولار اس جلسہ کے خصوسی مہمان رہے۔ وینا کلکرنی کالمرس لکچرار ،منجوناتھ تاریخ کے لکچرار،معاشیات کے لکچرار ستیش کمار اور کالج کا عملہ اس وقت موجود رہا۔ کالج کی فاؤنڈر برنسپال نے کالج کے احاطہ میں پودا لگا کر جلسہ کا آغاز کیا۔ریاض احمد صاحب نے دوران تقریر طالبات کو بتایا کہ یہ ’’عالمی یوم ماحولیات ‘ ‘ کا دن 5 جون اسی لئے مقرر کیا گیا ہے کہ بتاریخ5جون 1974 کو یو ین او میں سارے عالم کے 148 ممالک نے حصہ لیا تھا جس میں ہمارا ہندوستان بھی موجود تھا۔ اس دن یہ طے پایا کہ ہر سال 5تاریخ سارے عالم میں ’’یوم ماحولیات ‘‘ منایا جائے اور اس دن موحولیات کے تحفظ کی اہمیت اور اس کے بڑھتے ہوئے مسائل ، آلودگی سے عالمی لوگوں کو روشناس کرایا جائے اور اس ماحول کی حفاظت کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں۔ ڈاکٹر ہچ محمد کلیم اللہ شادؔ نے دوران تقریر مذہب اسلام کی روشنی میں موحول کے تحفظ کی وضاحت فرمائی۔ بتاکہ حضور محمد مصطفی ﷺکا ایک مرتبہ ایک قبرستان سے گزر ہوا تو آپؐ ایک قبر کے پاس رک گئے اورآپؐ نے ایک صحابی کو حکم دیاکہ اُس بڑے درخت سے چند ڈالیاں توڑ لاؤ۔جب صحابی نے چند ڈالیاں توڑ لائیں تو آپؐ نے اُن کو ایک قبر کے سرہانے لگایا اور بتایا کہ اس قبر میں جو بندہ دفن پر اس پر قبر کا عذاب نازل ہورہا ہے۔ اگر یہاں یہ پودہ لگ جائے گا تو اس کہ پتہ پتہ جو اللہ کی عبادت میں لگا رہتا ہے اس کی عبادت کے طفیل اس بندے کے عذاب میں کچھ تخفیف ہوگی۔ ڈاکٹر ہچ کلیم اللہ شادؔ نے اس مثال کو لے کر درخت کی اہمیت کا بچوں کو درس دیا کہ ایک پودہ بھی انسانوں کی زندگی کے لئے کتنا اہم ہے؟ موصوف نے یہ بھی بتایا کہ اگر روز قیامت ایک بھی پودہ بچا رہا تو اسی کو عبادت کے طفیل قیامت ٹل سکتی ہے۔ ضیاء رومانی نے دوران تقریر دنیا میں بڑتی ہوئی آلودگی، درختوں کے کٹاؤ کے سبب بارش کی قلت ، حرارت میں اضافہ ، پینے کے پانی کی قلت کے سبب لوگوں کی پریشانیوں کا ذکر کیا اور طالبات سے التماس کیا کہ ہر کوئی اپنے گھر اور آنگن کو پاک و صاف رکھے، اپنے پڑوسیوں کو بھی اپنے اپنے گھرکے آنگن میں ایک نہ ایک پودہ ضرور لگانے کی تلقین کریں کیوں کہ پیڑ ہمیں بارش لانے میں مدد کرتے ہیں،ہمیں اچھی ہوا،پاک آکسیجن مہیا کرتے ہیں، ذمین پر حرارت کو کم کرتے ہیں اور بھی کئی طریقوں سے انسانوں کے لئے بہت ہی مفید ہیں۔ ہر جگہ کی مانند ہمارے ملک کو بھی ۳۳ فی صد جنگلات کی ضرورت ہے جب کہ یہاں محض ۲۲ فی صد جنگلات باقی رہ چکے ہیں اور مزید پیڑ لگانے کی ضرورت ہے ورنہ ذمین پر کئی مشکلات درپیش ہوں گے۔ کالج کی پرنسپال صاحبہ نے طالبات کو تلقین کی کہ موحول کو پاک صاف رکھنے میں وہ ایک اہم رول ادا کریں، اپنے پڑوسیاں کو بھی موحول کی آلودگی کو دور کرنے کی ہدیات دیں، پیڑ پودے لگائیں ، اگر نہ لگا سکیں تو جو لوگ ان پیڑ پودوں کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں تو روکنے کی کوشش کریں۔ انہیں ان جنگلات اور پیڑ پودوں کی اہمیت بنائیں۔آخر میں محسینہ بیگم کے شکریہ کے ساتھ جلسہ کا اختتام ہوا۔