ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی طویل تاریخ

04:33PM Mon 18 Jan, 2016

امریکی پابندیاں ایرانی انقلاب کے آغاز سے جا کر ملتی ہیں دبئی – العربیہ نیوز چینل ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے ایرانی نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں اپنی آخری رپورٹ میں کہا تھا، کہ ایران نے اپنے پروگرام کے پرامن ہونے کے حوالے سے دی گئی تمام ضمانتوں پر عمل درآمد کرلیا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ گروپ 5+1 کے ساتھ طے پایا جانے والا معاہدہ، جو تہران پر بین الاقوامی پابندیاں اٹھانے کی اجازت دیتا ہے، قابل اطلاق ہوگیا۔ نیوکلیئر معاہدے کے قابل اطلاق ہونے کا مطلب ہے تہران پر عائد بین الاقوامی، امریکی اور یورپی پابندیوں کی طویل تاریخ کا اختتام۔ اقوام متحدہ نے ایران پر پابندیوں کا آغاز اس کے نیوکلیئر پروگرام کے سبب 2006 میں ایٹیمی لوازمات کی درامد پر پابندی لگا کر کیا۔ 2007 میں بین البراعظمی میزائل نظام پر پابندیاں عائد کی گئیں۔ 2008 میں ایرانی بینکنگ نظام پر مالیاتی پابندیاں عائد کی گئیں۔ 2010 میں تہران کو اسلحے کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی۔ اس کے علاوہ ایرانی جہاز رانی کی کمپنیوں اور ایرانی پاسداران انقلاب کے زیرانتظام کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا گیا۔ جہاں تک ایرانی پابندیوں کے ساتھ امریکی تاریخ کا تعلق ہے تو وہ ایرانی انقلاب کے آغاز سے جا کر ملتی ہے۔ جب 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر دھاوے کے نتیجے میں عملے کو یرغمال بنالیا گیا اور پھر اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے تمام ایرانی اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کردیا۔ 1995 میں صدر بل کلنٹن نے امریکی کمپنیوں کو ایرانی تیل اور گیس میں سرمایہ کاری سے روک دیا۔ اسی سال کانگریس نے ایران کے ساتھ معاملات کرنے والی بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے سزا کا بل منظور کیا۔ 2007 میں امریکی پابندیوں کا دائرہ کار بینکنگ سیکٹر تک پہنچ گیا، اور 2010 میں کانگریس نے توانائی اور بینکنگ دونوں سیکٹروں پر پابندیوں کا فیصلہ جاری کیا۔ 2011 میں امریکی پابندیاں نے بڑھ کر ایرانی پاسداران انقلاب کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ رہی بات یورپی یونین کی تہران کے خلاف پابندیوں کی، تو ان کا آغاز 2010 میں ہوا۔ پھر 2011 میں ان میں توسیع ہوئی اور ایرانی پاسداران انقلاب کے زیرانتظام کمپنیوں کے ساتھ ساتھ 180 ایسے اداروں اور شخصیات کو بھی شامل کرلیا گیا جن کے بارے میں خیال تھا کہ ان کا ایرانی نیوکلیئر پروگرام سے تعلق ہے۔ امریکی سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ انہوں نے ایران کے ایٹمی عزائم پر روک لگا کر بڑی فتح حاصل کرلی ہے، تاہم امریکا کے اندر ہی اس طرح کی آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں کہ اس معاہدے میں بہت سے خلاء پائے جاتے ہیں، اور عالمی برادری میں ایران کی واپسی خطرات سے گھری ہوسکتی ہے۔