بہت کم تعداد میں مسلم نوجوان سول سروس کا امتحان دیتے ہیں: ظفر محمود
02:14PM Tue 12 Jul, 2016
Share:
نئی دہلی۔ مرکزی حکومت کی ملازمتوں میں مسلم فرقہ کی نمائندگی کم ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ مسلم نوجوان بہت کم تعداد میں ان ملازمتوں کے مقابلے کے امتحان میں بیٹھتے ہیں۔
علاوہ ازیں مسلم طلبا اگر امتحان دیتے بھی ہیں تو ان کی پوری تیاری نہیں ہوتی۔ ممتاز سول سرونٹ ظفر محمود نے کہا کہ ’’یہی وجہ ہے کہ سرسید احمد خان نے 1883 میں محمڈن سول سروسز فنڈ ایسوسی ایشن قائم کیا تھا تاکہ اس کے توسط سے ہر سال امیدواروں کو آئی سی ایس امتحان میں بیٹھنے کے لئے لندن بھیجا جاسکے‘‘۔
انہوں نے اس سال کے سول سروس امتحان میں منتخب ہونے والے 17 امیدواروں کو اعزاز سے نوازتے ہوئے کہا کہ ان نوجوانوں کو ان کی قائم کردہ زکوۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے ایک سینئر نے کوچنگ فراہم کی تھی۔ نوجوانوں کو جسٹس راجندر سچر نے اعزاز دیئے ۔
جسٹس سچر کے او ایس ڈی رہ چکے ڈاکٹر محمود نے سچر کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان تعلیمی، معاشی اورسماجی طور پر ملک کے کسی بھی سماجی یا مذہبی فرقہ سے بہت پیچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلم فرقہ قوم کی تعمیر میں سرسید کی شاندار روایت کو بحال کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کڑی محنت اور استقلال سے کسی بھی شخص یا فرقہ کا نصیب بدلا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی توجہ دلائی کہ آئین کی دفعہ 16 (1) یہ کہتی ہے کہ روزگار اور سرکاری دفاتر میں ملازمت کے معاملے میں تمام شہریوں کو برابر مواقع ملنے چاہئیں۔