اگلے ماہ سےراشن کارڈ ہولڈرس کو راشن ملنا مشکوک
04:14PM Fri 20 Jun, 2014
بھٹکلیس نیوز / 20 جون،2014
فیئر پرائس ڈپو مالکان کے احتجاج کا نتیجہ ،24/جون سے حما لیوں کا احتجاج
بنگلور/حکومت کے ساتھ ہوئی بات چیت ناکام ہو نے کے سلسلہ میں اور راشن کارڈ کی ذخیرہ اندوزی اورراشن کی تقسیم کی کار روائی کو روکتے ہو ئے ریاست بھر کے سرکاری راشن ڈپو مالکان کی طرف سے لئے گئے فیصلے کا اثر آئندہ ماہ جو لائی میں راشن کارڈ ہولڈرس پر پڑنے والا ہے ، ماہ جون کے لئے راشن کی ذخیرہ اندوزی اور تقسیم کا کام مکمل ہو چکاہے ،اس لئے اس ماہ راشن کارڈ ڈپو مالکان کی طرف سے لئے گئے فیصلے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا ،مگر جولائی کے مہینے میں دیئے جانے والے "انا بھاگیہ " منصوبے کے چاول سمیت دیگر اجناس اور کیروسین کی تقسیم پراس کا اثر ضرور پڑے گا ، ماہ جو لائی میں تقسیم کئے جانے والے راشن اور کیروسین کو 20/جون سے 30/جون کے بیچ ہی ڈپو مالکان اپنے اپنے فیز پرائز ڈپو کےلئے متعلقہ گوداموں سے حاصل کر لینا ضروری ہے ،مگر اپنے مطالبات پورے کئے جانے تک راشن کی خریدی نہ کئے جانے کا فیصلہ ڈپو مالکان نے کیا ہے ،ان کے اس فیصلہ سے یکم /جولائی سے ریاست کے سبھی انتو دیا بی پی ایل کارڈہولڈرس کو فی کلو چاول1/روپئے کے حساب سے دیئے جانے والے 30/کلو چاول اور دیگر اجناس کے علاوہ کیروسین کی تقسیم مقررہ وقت پر کیا جانا مشکوک نظر آرہا ہے ،اس درمیان ریاست کے حمالیوں کے اسوسی ایشن نے بھی اپنے مطالبات پو رے کئے جانے کا مطالبہ کر تے ہو ئے 24/جون سے احتجاج شروع کر نے کی تیاریوں میں لگےہو ئے ہیں ، اس طرح مسئلہ اور بگڑ سکتا ہے ، حکومت کی طرف سے اگر راشن ڈپو مالکان اور حمالیوں کے اسوسی ایشن کے ساتھ بات چیت کر کے ان کو منانے میں کامیابی حا صل کر لی جا ئے تو مسئلہ کا حل نکال سکتا ہے ،اس درمیان راشن ڈپو مالکان کے فیصلے سے متعلق گذشتہ روز شہرمیں اخبار نمائندوں سے خطاب کر تے ہو ئے ریا ستی وزیر برائے خوراک وشہری رسدات دنیش گنڈوراؤنے بتایا کہ کمیشن میں اضا فہ سمیت راشن ڈ پو مالکان کے کئی مطالبات کو حکومت نے پو راکیا ہے ، اگر ڈپو مالکان نے راشن حا صل کر نے اور تقسیم کر نے کے کام کو رو کا تو حکو مت ان کے خلاف سخت اقدامات کر ے گی ، فی الحال چاول ،شکر ،گہیوں ،سمیت دیگر سبھی اجناس کے کمیشن میں اضا فہ کیا گیا ہے ،پھر سے مطالبات سامنے رکھنا ٹھیک نہیں ہے ، راشن حاصل نہ کر نے اور تقسیم کی کارروائی میں خلل پیدا کر نے کے فیصلے کو واپس لیں اور حکومت کے ساتھ اپنے مسائل بات چیت کے ذریعے حل کر نے کی کو شش کر یں ، ورنہ حکومت کو ان کے خلاف سخت کارروائی کر نی پڑے گی ، اسی دوران انہوں نے یہ بھی وارننگ دی ہے کہ فوری احتجاج ختم کر کے اپنے اپنے کاروبار میں لگ جائیں ورنہ حکومت کو ٹھوس اقدامات کر نا پڑے گا ۔