مکہ میں حجاج کا نصف خرچ تحائف اور خدمات پر ہوتا ہے: رپورٹ

03:33PM Sun 21 Aug, 2016

سعودی عرب میں ایک مطالعاتی تحقیق سے اس امر کی تصدیق ہوئی ہے کہ مملکت کے اندرون کے حجاج کی ماہانہ آمدنی 300 سے 3000 ریال تک ہوتی ہے جب کہ بیرون سے آنے والے حجاج کی اوسط آمدنی تقریبا 1298 ریال ہے۔ تحقیق میں مختلف شہریتوں کے تقریبا 2655 حجاج پر مشتمل ایک نمونے کا تجزیہ کیا گیا۔ مطالعاتی تحقیق کے مطابق 2014 میں بیرون ملک سے آنے والے حجاج کرام کا اوسط مجموعی خرچ 20995 ریال رہا۔ یہ 2013 کے لحاظ سے نسبتا کم ہو گیا جب حجاج کرام کا اوسط مجموعی خرچ 23888 تھا۔ مطالعے کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے حجاج کرام میں 75% کا خرچ 27000 – 8000 ريال رہا جب کہ 2014 میں دو شعبوں سامان اور خدمات پر بیرون ملک کے حجاج کی خرچ ہونے والی رقم فی کس 7122 رہی جو کہ حجاج کرام کے تخمینی اوسط کل خرچ کا 34% بنتا ہے۔ مطالعاتی تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ حجاج کی جانب سے رہائش کی خدمات پر خرچ کی جانے والی اوسط تخمینی رقیم تقریبا 2462 ریال ہے۔ خدمات کے سیکٹر پر سب سے زیادہ خرچ تحقیق کے مطابق حجاج کرام سامان کی خریداری پر جو کل اوسط رقم خرچ کرتے ہیں اس میں بڑا حصہ یعنی تقریبا 51.5 % تو کھانے پینے پر خرچ ہوتی ہے۔ یہ ایک قدرتی امر ہے اس لیے کہ غذائی اشیاء بنیادی ضروریات میں سے ہیں جن کے بغیر انسان نہیں رہ سکتا۔ کھانے پینے کی اشیاء کے بعد علامتی تحائف کا دوسرا نمبر ہے جس پر سازوسامان کی رقم کا تقریبا 42% خرچ ہوتا ہے۔ علامتی تحائف سے مراد وہ تحائف ہیں جو بہت کم قیمت ہوتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر کپڑوں کی خریداری آتی ہے جس پر تقریبا 6.5% ہوتا ہے۔