ایردوآن کے بیٹے پر منی لانڈرنگ کا الزام ، اٹلی اور ترکی کے بیچ کشیدگی

01:05PM Wed 3 Aug, 2016

روم اور انقرہ کے درمیان ان دنوں کڑی تنقید کا تبادلہ ہورہا ہے۔ یہ صورت حال ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے بیٹے پر منی لانڈرنگ کے الزام میں اٹلی کی تحقیقات ک حوالے سے سامنے آئی ہے۔ اٹلی کے سرکاری چینل RAI ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں ایردوآن نے آگاہ کیا کہ شمالی شہر بولونیا (جہاں بلال زیرتعلیم تھا) میں ہونے والی تحقیقات سے دو طرفہ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ " اگر اس وقت بلال اٹلی واپس آیا تو ممکن ہے کہ اس کو گرفتار کرلیا جائے۔ اس سے اٹلی کے ساتھ ہمارا تعلق بھی مشکلات سے دوچار ہوسکتا ہے"۔ ترک صدر کا 35 سالہ بیٹا بلال ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے2015 میں اٹلی گیا تھا۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ وہ اٹلی سے کب روانہ ہوا تاہم عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصہ پہلے ترکی لوٹ گیا تھا۔ بلال کی جانب سے کسی بھی غلطی کے ارتکاب کی تردید کی گئی ہے۔ ایردوآن نے انٹرویو کے دوران دوٹوک انداز میں کہا کہ "اٹلی کو چاہیے کہ وہ مافیا پر توجہ دے میرے بیٹے پر نہیں"۔ ایردوآن کے بیان کا جواب دیتے ہوئے اٹلی کے وزیراعظم ماتیو رینتسی نے باور کرایا ہے کہ اٹلی کا اپنا خودمختار عدالتی نظام ہے اور " اس کے جج اٹلی کے آئین کے پابند ہیں ترک صدر کے نہیں"۔ ترکی میں 15 جولائی کی رات انقلاب کی ناکام کوشش کے بعد سے فوج ، عدلیہ ، شہری خدمات اور تعلیم کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے 60 ہزار سے زیادہ افراد کو کام سے روک دیا گیا ہے یا ان سے تحقیقات جاری ہیں۔ انقلاب کی ناکام کوشش کے دوران 230 سے زیادہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اٹلی کے اخباروں کے مطابق سرکاری استغاثہ کے نمائندے اُن مالی رقوم کو دیکھ رہے ہیں جن کے حوالے سے اس طرح کے شکوک اور الزامات اٹھائے جارے ہیں کہ یہ ترکی سے اٹلی لائی گئیں۔ جولائی میں بولونیا کی عدالت نے استغاثہ کو اپنی تحقیق 6 ماہ بڑھا دینے کی اجازت دی تھی۔ ایردوآن کے بیٹے بلال کے وکیل کا کہنا ہے کہ اُن کے مؤکل یہ اعلان کرچکے ہیں کہ "ان کی تمام تر مالی سرگرمیاں شفاف اور قانون کے مطابق ہیں اور یہ الزامات مطقا بے بنیاد ہیں"۔