فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے والے کسی بھی شخص یا تنظیم کو بخشا نہیں جائے گا؛ راجناتھ سنگھ کا بیان
04:00PM Thu 5 Mar, 2015
بھٹکلیس نیوز / 05 مارچ، 15
نئی دہلی/(یو این آئی) مرکزی حکومت نے آج کہا کہ فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے والے کسی بھی شخص یا تنظیم کو بخشا نہیں جائے گا اور اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے راجیہ سبھا میں ضمنی سوالات کے جواب میں کہا کہ فرقہ واریت بے حد حساس معاملہ ہے اور ملک میں اس کی صورت حال کا جائزہ اعدادوشمار کی بنیاد پر نہیں کیاجانا چاہئے ۔ ان سے دریافت کیا گیا تھا کہ حکومت فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے والے شخص یا تنظیموں پر روک لگانے کے لئے کیا قدم اٹھارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری حکومت میں اس طرح کے واقعات کم ہوتے ہیں تو اس پر پیٹھ نہیں تھپتھپائی جانی چاہئے اور دوسری حکومت کے دور میں زیادہ ہوتے ہیں تو ان کو الزام نہیں دینا چاہئے ۔ فرقہ پرستی پھیلانے والی طاقتوں کا متحد ہوکر منھ توڑ جواب دینے کی ضرورت ہے اور حکومت اس طرح کے معاملوں میں سخت سے سخت کارروائی کرے گی خواہ قصور وار شخص کوئی بھی ہو۔ اس سے پہلے اصل سوال کے جواب میں داخلی امور کے وزیر مملکت کرن رجیجونے بتایا کہ پچھلے سال اکتوبر سے دسمبر تک فرقہ وارانہ واقعات میں کمی دکھائی دی۔ ان مہینوں میں ان واقعات کی تعداد بالترتیب 72 ، 49ا ور 33 رہی حالانکہ اس سال جنوری میں بڑھ کر 72 تک پہنچ گئی۔غور طلب ہے کہ اس سے قبل وزیراعظم نریندر مودی بھی پارلیمنٹ میں ممبروں کو انتہائی جذباتی انداز میں مطلع کرچکے ہیں کہ یہ بودھ اور گاندھی کا ملک ہے اور یہ کہ ان کا دھرم’’آئین‘‘ ہے۔ اس سے قبل بھی وزیراعظم عیسائی فرقہ کے ایک مذہبی جلسہ میں یہ اعلان کرچکے ہیں کہ مذہبی شدت پسندی کو ان کی حکومت برداشت نہیں کرے گی اور یہ کہ ملک کے ہرشہری کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ لیکن آرایس ایس اور اس کی حواری تنظیموں پر وزیراعظم کی اس نصیحت کا بظاہر کوئی اثر نہیں دکھائی دیتا۔ ایک طرف تو وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے لوگ قومی اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف آرایس ایس اور دوسری شدت پسند تنظیمیں اپنے مخصوص ایجنڈے پر بدستور عمل پیرا ہیں ایسے میں وزیرداخلہ کی اس یقین دہانی کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی۔