آل انڈیا تنظیم علماء حق کی طرف سے تحریک آزادی میں علماء کے کردار کے موضوع پر علمی مذاکرہ

04:57PM Mon 24 Aug, 2015

نئی دہلی، 24اگست (راست)ہندستان کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھنے والا حکمراں طبقہ یہاں کی پوری تاریخ کو بھگوا رنگ میں رنگنے کا منصوبہ ترتیب دے رہا ہے، اسکول کی نصابی کتابیں ان لوگوں کے ہاتھوں لکھوانے پر آمادہ ہے، جنھیں اس ملک کی مشترکہ تہذیبی روایات اور یہاں کی بقائے باہم پر مبنی تاریخ کا علم نہیں،وہ کثرت میں وحدت سے عبارت ہماری گنگا جمنی تہذیبی نقوش سے نابلد ہیں۔ انھیں یہ معلوم نہیں کہ اسی دھرتی کی کوکھ سے جنم لینے والے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کون تھے،ان خیالات کا اظہار آل انڈیا تنظیم علماء حق کے زیر اہتمام ،تحریک آزادی میں علماء دین کا کردارکے عنوان سے منعقد مذاکرہ پبلک لائبریری،جامعہ نگر کی صدارت کرتے ہوئے معروف عالم دین مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے کیا،انھوں نے کہا کہ زعفرانی تاریخ میں کسی شیخ الہند ،شیخ الاسلام،کسی آزاد،کسی نانوتوی،کسی محمد علی جوہر کا نام نہیں آتا جنہوں نے اپنے سرخ لہو سے اس ہندوستان کی آبیاری کی ہے،مسلم مجاہدین کے ساتھ نا انصافی کی ایک لمبی داستاں ہے صرف انہیں ہی اس ملک کی تاریخی اور تحریکی منظرنامے سے دور نہیں رکھا گیابلکہ ان کی فکری علمی اور روحانی اولاد واخلاف پر بھی عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے انھیں دیش دروہی، غدار اور ملک دشمن بارو کرانے میں یہاں کا پورا سیاسی نظام دن رات ایک کیے ہوا ہے۔ علماء اور مدارس کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جارہاہے ، دیر ضرور ہوچکی ہے مگر اب بھی وقت ہے کہ رام اور رحیم کی تفریق کو ختم کرکے ملک کے سبھی طبقات اور مذاہب کے افراد پر ترقی کے دروازے کھولے جائیں اسی میں ملک کی سالمیت بقا اور خوشحالی کا راز پوشیدہ ہے۔اس مذاکرہ کے مہمان خصوصی کل ہند کانگریس اقلیتی سیل کے چیرمین خورشید احمد سیدنے کہا کہ اس وقت جو صورت حال ہے اور ملک جس طرح جمہوریت، سیکولرازم اور آئینی بحران سے گزر رہا ہے اس وقت بھی علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے آئیں اور ملک کی جمہوریت اور سیکولرازم کو بچانے میں اہم کردار ادا کریں جس طرح انہوں نے ملک کو آزاد کرانے میں اپنی قربانی دی تھی۔ انھوں نے ملک کی آزادی میں علمائے کرام کے رول کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کے جو حالات ہیں اس سے ہم سب واقف ہیں۔ ایسی طاقت اقتدار پر قابض ہے جس کاآئین پر کبھی یقین نہیں رہا۔ انہوں نے کہاکہ پہلے بھی علمائے کرام ملک کے اتحاد و سالمیت اور بقا کے لئے اپنی زندگی کی قربانی دیتے رہے ہیں اور اس وقت بھی ملک قربانی طلب کر رہا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ملک کی جموریت اور عدلیہ پر منڈلاتے خطرات کو ختم کرنے کے لئے سڑکوں پر اترنا ہوگا۔سماجی کارکن اور مشہور وکیل اصغر خاں ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس ملک میں مسلمانوں نے جو قربانی دی ہے اس کا اعتراف نہیں کیا گیا ہے اور مسلمانوں کی تاریخ اور کارناموں کو نظر انداز کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے راہیں مسدود کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہاکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کی خدمات سے نئی نسل کو روشناس کرانے کے لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔دہلی کانگریس کمیٹی کے اقلیتی سیل کے صدر علی مہدی نے کہا جب تک ہم ایک تھے ہماری وقعت اور ہماری بات سنی جاتی تھی۔ لیکن جب ہم فرقوں اور مسلکوں میں بٹ گئے اور مسجدوں کے اختلافات کو چوراہوں پر لے کر آگئے اس کے بعد ہماری کوئی قدرہی نہیں رہی،اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرکے ہم نے ہاری ہوئی جنگ جیتی ہے اس لئے اس سمت میں ہمیں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔تعلیم و تنظیم ہیومن چین کے چیرمین انجینئر محمد اسلم علیگ ،پروفیسر وپن کمار ترپاٹھی ،مولانا توصیف قاسمی اور آل انڈیا متحدہ ملی محاذ کے جنرل سکریٹری احسن مہتاب خان نے مشترکہ طور پر کہا کہ عصری علوم اور مذہبی علوم کے حامل افراد کے درمیان اختلافات کے باوجود دونوں میں ایک مربوط رابطہ تھا اور دونوں ایک دوسرے کا حد درجہ احترام کرتے تھے جو اس وقت اس یکجہتی اور اتحاد کا فقدان نظر آرہاہے،آزادی کی لڑائی میں کامیابی کی کلید یہی یکجہتی تھی اسی یکجہتی سے ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اس موقع پر بڑی تعداد میں فضلائے مدارس ،ائمہ مساجد اور تنظیموں کے ذمہ داران موجودتھے جن میں فتح محمد ندوی ،قاری ریاض الاسلام ،مولانا بشیر افضل قاسمی ،بہار کے مولانا آزاد حسین قاسمی،بستی کے مولانا عبدالرحیم قاسمی ،رائے پور سے مولانا بدر عالم ندوی ،مہاراشٹر سے مولانا محمد توفیق قاسمی ،جھارکھنڈ سے مولانا احمد حسین ندوی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں،مذاکرہ کا افتتاح مشہور قاری محمود حسن اصالت پوری کی تلاوت سے ہوئی اورمولانا میکائل تابش قاسمی نے ساحرانہ انداز تکلم سے نظامت کے فرائض انجام دئے اور مفتی محمد یوسف قاسمی کی پرسوز دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔