اخوان کے مرشد عام کو چوتھی بار عمر قید کی سزاء
04:09PM Sun 1 Mar, 2015
بھٹکلیس نیوز/یکم مارچ ،15
مقدمے میں شامل چار اخوانیوں کی سزائے موت کا فیصلہ
مصر کی ایک فوج داری عدالت نے ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے زیر حراست مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع سمیت کئی اہم رہ نمائوں اور کارکنوں کو عمر قید کی سزائوں کا حکم دیا ہے جس کے بعد مرشد عام کو دی گئی عمر قید کی سزائوں کی تعداد چار ہو گئی ہے۔
قاہرہ کی فوجی عدالت کے جج معتز خفاجی نے سنہ 2013ء میں مرشد عام کے دفتر سے متعلق ایک مقدمہ کی چند منٹ سماعت کی جس کے بعد مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع، ان کے نائب خیرت الشاطر، رشاد البیومی، سابق مرشد عام مہدی عاکف، پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر سعد الکتاتنی، محمد البلتاجی، عصٓام العریان، اسامہ یاسین سمیت سات دیگر رہنماوں کو عمر قید کی سزا سنائیں تاہم انہیں سزا کے خلاف اپیل کا حق دیا گیا ہے۔
عدالت کی جانب سے چار اخوانی کارکنوں محمد عبدالعظیم البشلاوی، مصطفیٰ عبدالعظیم فہمی، عاطف عبدالجلیل اور عبدالرحیم محمد کو اسی کیس میں سزائے موت سنائی گئی۔
خیال رہے کہ مصری فوجی پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے زیرحراست اخوانی رہ نمائوں پر قتل، اقدام قتل، آتشیں اسلحہ رکھنے، شہریوں کو ہراساں کرنے اور ملک میں پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے سمیت کئی دیگر نوعیت کے الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ہفتے کے روز قاہرہ کی عدالت میں ملزمان کو بھی پیش کیا گیا تاہم دو مفرور ملزمان کو پھانسی اور تین کو ان کی عدم موجودگی میں عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع کو اس سے قبل تین مقدمات میں عمر قید کی سزا ہو چکی ہے جبکہ ایک مقدمہ میں انہیں سزائے موت بھی ہوئی تھی۔
بعد ازاں ایک دوسری عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔ عدالت نے محمد بدیع اور اخوان کے پچیس دیگر رہ نمائوں کو توہین عدالت کے الزام میں الگ سے تین سال قید کی سزا کا حکم بھی دیا۔
ع،ح،خ