کوہ ہمالیہ کو مقامی فضائی آلودگی سے شدید نقصان کا سامنا

12:21PM Sun 26 Jun, 2016

کھٹمنڈو: اگرچہ آب و ہوا میں تبدیلی سرحدوں سےماؤرا بین الاقوامی معاملہ ہے لیکن خطے میں مقامی آلودگی اور ایندھن جلنے سے ہمالیائی پہاڑی سلسلے اور سطح مرتفع تبت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ امریکی قومی مرکز برائے فضائی تحقیق سے وابستہ ماہر ماحولیات یانگیانگ ژو کے مطابق 1960 کے عشرے سے اب تک ہمالیائی خطے میں برف کم ہورہی ہے اور برفانی چادروں پر سیاہ کاربن جمع ہورہا ہے۔ اسی وجہ سے کلائمٹ ماڈل بنانے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ اس علاقے میں مقامی آلودگی بھی نقصان دہ ثابت ہورہی ہے لیکن صرف گلوبل وارمنگ کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ۔ ایندھن کی باقیات اور راکھ س خطے میں درجہ حرارت کو بڑھا رہے ہیں۔ انٹرنیشنل سینٹر فار دی انٹی گریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ ( آئی سی آئی یم او ڈی) کے ماہر ارون بی شریستا کے مطابق اس علاقے میں ایندھن کی آلودگی ، بائیوفیول اور کھیتی باڑی کے بعد جلائے جانے والے کچرے سے چی ایچ جی اور بلیک کاربن ذرات برف کی چادروں پر جمع ہورہے ہیں۔ اس علاقے کے لوگ لکڑی اور گاؤں کے گوبر کو جلارہے ہیں کیونکہ ان کے پاس دوسرا کوئی راستہ موجود نہیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومتیں دیگر متبادل طریقوں پر غور کریں۔ صرف کھٹمنڈو میں ہی آلودگی کے ذرات عالمی ادارہ صحت کے معیار سے پانچ گنا زائد ہیں۔