کونسل نول کشور کے نایاب متون کو شائع کرے گی : پروفیسر ارتضیٰ کریم

03:04PM Mon 24 Jul, 2017

فارسی اور عربی زبان کا ہی کمال ہے کہ اردو اتنی دلکش اور خوبصورت زبان بن کر سامنے آئی ہے کونسل کے صدر دفتر میں فارسی پینل کی میٹنگ کا انعقاد
نئی دہلی۔ 24 ؍جولائی ۔اردو زبان میں جولطافت و شیرینی اور خوبصورتی ہے اس میں فارسی زبان و ادب کا بہت بڑا رول ہے۔اس زبان کے لا تعداد الفاظ اردو میں مستعمل ہیں۔ اگر ہم فارسی سے نابلد ہو گئے یا اس سے ہم نے دوری بنا لی تو اردو اتنی میٹھی اور خوبصورت زبان نہیں رہ پائے گی۔ یہ فارسی اور عربی زبان کا ہی کمال ہے کہ اردو اتنی دلکش اور خوبصورت زبان بن کر سامنے آئی ہے۔اس کی اہمیت و افادیت کو دیکھتے ہوئے کونسل فارسی کی ترویج وا شاعت کے لیے کئی جہات پر کام کر رہی ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں کونسل نے فارسی کی ایسی نایاب و نادر کتابیں شائع کی ہیں جس کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ یہ باتیں قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹرپروفیسر ارتضیٰ کریم نے صدر دفتر میں منعقدہ فارسی پینل کی میٹنگ میں کہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پچھلی میٹنگ میں ہندوستان میں فارسی ادب کی تاریخ کے حوالے سے کتاب لانے کی بات ہوئی تھی۔ اس سلسلے میں پیش رفت ہوئی ہے اور اس تعلق سے ماہرین نے خاکے بھی پیش کر دیے ہیں۔ اگر اسی فعالیت کے ساتھ یہ کام ہوتا رہا تو بہت جلد یہ مسودہ کتابی صورت میں منظر عام پر آجائے گا۔انھوں نے پینل کی اس بات کو منظوری دی کہ نول کشور پریس کے ایسے متون جو اب نایاب ہیں انھیں پھر سے شائع کیا جائے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اوریجنل متون سے تقابلی مطالعہ کر کے اسے تیار کیا جائے تاکہ قاری کے سامنے بہتر اور صحت مند صورت میں پیش کیا جا سکے۔ ہندوستان میں فارسی ادب کی تاریخ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر شریف حسین قاسمی نے کہا کہ فارسی ہندوستان میں لگ بھگ چھ سو سال تک علمی زبان رہی ۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی، لکھنے پڑھنے اور بول چال کی زبان فارسی تھی۔ اس اہمیت سے مختلف زبان کے بولنے والے ان کی تحریری صورت فارسی زبان ہی تھی۔ اس اہمیت کو دیکھتے ہوئے کونسل نے جو فیصلہ لیا ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ اس میٹنگ کی صدارت پروفیسر چندر شیکھر نے کی انھوں نے کہا کہ فارسی زبان و ادب کے تعلق سے ہم ہندوستانیوں کی جو خدمات ہیں اس کا اندازہ بیرون ملک میں کیا جا سکتا ہے۔ جہاں ہماری خدمات کو توقیر و عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس میٹنگ میں پروفیسر چندر شیکھر، پروفیسر شریف حسین قاسمی، پروفیسر طلحہ رضوی برق، پروفیسر وجیہ الدین ، پروفیسر عمر کمال الدین، پروفیسر سید حسن عباس کے علاوہ اور کونسل کے پرنسپل پبلی کیشن آفیسر ڈاکٹر شمس اقبال، شمع کوثر یزدانی (اسسٹنٹ ڈائرکٹر، اکیڈمک)، جناب فیروز عالم (اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر)،جناب امتیاز احمد، جناب شہاب الدین (ریسرچ اسسٹنٹ) اور شاہد اختر نے بھی شرکت کی۔