جمال خاشقجی کے قتل سے شہزادے کا کوئی تعلق نہیں: سعودی عرب
12:59PM Sat 9 Feb, 2019
سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے شہزادے کا تعلق ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد بتایا۔ سرکاری ذرائع نے ہفتے کو یہ بات بتائی۔ الجبیر نے خاشقجی کے قتل میں کراؤن پرنس کے مشتبہ کردار کے بارے میں اٹھائے ہوئے سوالات کے جواب میں یہ بات کہی۔
قابل ذکر ہے کہ اکتوبر 2018 میں ترکی کے استنبول میں واقع سعودی سفارت خانہ جانے کے بعد خاشقجی کا قتل کردیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں کئی اعلی سعودی اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد سعودی کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے انٹیلی جنس یونٹ کی تشکیل نو کرنے کا حکم دیا ہے۔ گزشتہ مہینے سعودی سرکاری وکیل نے اس قتل کے 11 مشتبہ افراد میں سے پانچ کو موت کی سزا سنانے کی اپیل کی تھی۔
قبل ازیں، قتل معاملوں کے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ایگنیس کیلمارڈ کے مطابق سعودی عرب کی حکومت کے حکام نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی منصوبہ بندی کی اور ترکی کی جانب سے اس سلسلے میں کی جا نے والی تحقیقات کو کمزور کرنے کا کام کیا۔کیلمارڈ نے جمعرات کو ایک بیان جاری کر یہ معلومات فراہم کی۔
اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ایگنیس کیلمارڈ نے کہا، ’’ترکی میں میرے مشن کے دوران جمع کئے گئے ثبوتوں میں بادی النظر یہ سامنے آیا ہے کہ خاشقجی کا منصوبہ بند طریقے سے بے رحمانہ قتل کیا گیا تھا۔ اس قتل کا منصوبہ سعودی عرب کے حکام نے بنایا تھا۔
(یو این آئی)