سبز انقلاب کے باوجود ملک میں فاقہ کشی بڑھ رہی ہے: محمد جناح
11:57AM Sat 6 Aug, 2016
حلال غذا کے تعلق سے بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے: نجمہ ہپت اللہ
علی گڑھ 06 -اگست: حلال غذا اوردیگر حلال میدانوں کے تعلق سے عالمی سطح پر بیداری میں اضافہ ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق مرکزی وزیر برائے ا قلیتی امور محترمہ نجمہ ہپت اللہ نے یونائیٹیڈ ورلڈ حلال ڈیولپمنٹ، سنگا پور کے زیرِ اہتمام’’ فوڈ، واٹر اینڈ اینوائرنمنٹ انّو ویشن فار سسٹینیبل گروتھ‘‘ موضوع پر انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر نئی دہلی میں منعقدہ ایک عالمی سیمینار سے خصوصی مقرر کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ حلال طرز تمام عالمِ انسانیت کے لئے ہے اور یہ براہِ راست ماحولیات سے وابستہ ہے لہٰذا ہمیں اس بارے میں بیداری کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
مہمانِ خصوصی انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر، نئی دہلی کے صدر مسٹر سراج الدین قریشی نے کہا کہ انسان نے نہ صرف پہاڑوں کی اونچائیوں کو ناپا ہے بلکہ سمندر کی گہرائی کو بھی ناپ لیا ہے۔ وہ چاند پر بھی پہنچ چکا ہے لیکن اس کے باوجود دنیا میں متعدد مقامات پر وہ قدرتی آفات کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم فطرت کو تباہ کریں گے تو ہم خود تباہ ہوجائیں گے۔
اس موقع پر سابق مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور محترمہ نجمہ ہپت اللہ نے کولکاتا کی معروف سماجی کارکن محترمہ سائرہ شاہ حلیم کو یادگاری نشان سے سرفراز کیا۔
غذائی اشیاء کے تعلق سے حاضرین کو خطاب کرتے ہوئے یو این ڈبلیو ایچ ڈی سنگا پور کے صدر محمد جناح نے کہا کہ سبز انقلاب کے نتیجہ میں ہندوستان غذائی اشیاء کے میدان میں خود کفیل ہوگیا ہے لیکن یہ بد نصیبی ہے کہ ابھی بھی ملک میں لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہیں جس کا سبب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں غذا کی تقسیم صحیح طور پر نہیں ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ترقی کے باوجود بچوں کی صحت بہتر نہیں ہے اور وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں غذا کی صحیح تقسیم کا نظم کرنا ہوگا۔
پانی کی اہمیت سے روشناس کراتے ہوئے کولکاتا کی معروف سماجی کارکن محترمہ سائرہ شاہ حلیم نے کہا کہ پانی ہماری زندگی کے لئے بہت ضروری ہے اور پانی کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا اسی لئے دنیا بھر میں صرف ندیوں کے کنارے ہی مختلف تہذیبیں پیدا ہوئیں جس کی سب سے بڑی مثال ہندوستان میں سندھ اور گنگا ندی کی تہذیبیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں1951کی مردم شماری کے مطابق فی کس5177کیوبک میٹر پانی دستیاب تھا جو 2011میں کم ہوکر محض1545کیوبک میٹر رہ گیا جو حد درجہ تشویش کا باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی کی اس کمی کے سبب ملک سوکھے کا شکار ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مہاراشٹر، راجستھان، مدھیہ پردیش، گجرات، ہریانہ، آندھرا پردیش اور تیلنگانہ سوکھے سے متاثر ہیں جس کے نتیجہ میں کسان خود کشی پر مجبور ہو رہے ہیں۔
محترمہ سائرہ شاہ حلیم نے کہا کہ پانی قدرت کی انمول دین ہے اور اس پر سبھی جانداروں کا برابر کا حق ہے جو انہیں کسی حکومت نے نہیں بلکہ اللہ نے خود دیا ہے۔ محترمہ سائرہ شاہ نے کہا کہ پانی کو بازار کی شئے بنائے جانے کا حق کسی کو نہیں ہے اور اسی لئے ہمیں پانی اور پانی کے وسائل کی بازاریت کی سخت مخالفت کرنی چاہئے۔
ممتاز ماہر ماحولیات مسٹر سعد اشرف نے کہا کہ ترقی کے نتیجہ میں نہ صرف زمین کی قلت ہوئی ہے بلکہ جنگلات بھی کم ہوئے جس سے باڑھ، سوکھا اور زمین دھنسنے وغیرہ کے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنی ماحولیات کے تحفظ پر توجہ دیں تو قدرتی اور فطری سیاحت کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے۔
