روس کا ہائپرسونک بین البراعظمی میزائل کا کامیاب تجربہ
03:29PM Thu 27 Dec, 2018
روس نے دنیا کے جدید ترین بلیسٹک میزائل کے تجربے کا دعویٰ کیا ہے جو ایک براعظم سے دوسرے برِ اعظم تک آواز سے پانچ گنا رفتار سے مار کرسکتا ہے۔
وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ ایک طرح کا ہائپر سونک (صوتی رفتار سے تیز) گلائیڈر’ایون گارڈ‘ منصوبے کا حصہ ہے، جو گلائیڈر کے ذریعے آئی سی بی ایم یعنی بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کو آواز سے پانچ گنا زائد رفتار دیتا ہے، اسے مغربی قازقستان کے علاقے اورنبرگ سے لانچ کیا گیا جس نے ہزاروں میل دور کم چاٹکا ٹیسٹ رینج میں اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
میزائل دفاعی نظاموں کے لیے خطرہ
ایک جانب تو یہ ایٹمی ہتھیار لے جاسکتا ہے تو دوسری جانب دنیا کے جدید ترین اینٹی میزائل (میزائل شکن) ڈیفنس سسٹم کو ناکارہ بناسکتا ہے۔ صدر پیوٹن کے حکم پر اس کے تجربات کئے گئے اور شاید اگلے برس یہ میزائل روسی اسلحہ خانے کا حصہ بھی بن جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق روس نظری طور پر دیگر طاقتور ممالک پر اپنی دھاک بٹھانا چاہتا ہے اور یہ تجربہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
دوسری جانب مغربی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ روس اپنی دفاعی صلاحیت کے متعلق جو دعوے کرتا ہے وہ اس کی اصل صلاحیت سے زیادہ ہوتےہیں۔