منہدم مقام پر مسجد کی بازیابی کے فیصلہ کا انتظارجھوٹی تسلی مسجد کی منتقلی سے اتفاق کرنے مولانا سلمان ندوی کی قوم سے ایک بار پھر اپیل
02:53PM Fri 23 Nov, 2018
نئی دہلی 23 نومبر (یو این آئی)بابری مسجد اور رام مندر کے اندیشے سے پُر قضیہ کے بیچ مولانا سلمان حسینی ندوی نے یہ کہتے ہوئے کہ بابری مسجد کی اُس کے منہدم مقام پر بازیابی کے لئے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ایک جھوٹی تسلی ہے ، جس کی کوئی شرعی بنیاد نہیں ہے ، ایک بار پھر قوم سے مسجد کی منتقلی سے اتفاق کرنے کی دردمندانہ اپیل کی ہے ۔ایک بیان میں جو سوشیل میدیا پر وائرل ہے اس انتباہ کے ساتھ کہ اجودھیا میں متعلقہ مقام پرمندر بنانے کی جو خطرناک تحریک1990میں شروع کی گئی تھی آج دوبارہ اسی طرح کی تحریک پھر شروع کی جارہی ہے ، مولانا نے یاد دلایا کہ سابقہ موقع کی تحریک1992میں نہ صرف مسجد کی شہادت کا سبب بنی بلکہ ہزاروں مسلمانوں کی شہادت کا سبب بن کر ملک کے لئے ناسور بن گئی۔یو این آئی کے اس نمائندے نے وائرل بیان سے متعلق جب مولانا سے فون پر رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ بابری مسجد اور رام مندر کے مسئلہ کے بارے میں شری روی شنکر سے جو بات شروع ہوئی تھی، وہ ایک بڑا مثبت اور تاریخی قدم تھا، لیکن پرسنل لا بورڈ کے ‘‘چند لوگوں نے اس کو اختلاف کا موضوع بنایا۔ پرسنل لا بورڈ کی حکمت عملی نہ طلاق کے بارے میں کامیاب ہوئی نہ مسجد کے بارے میں‘‘۔بورڈ سے متعلق مولاناسے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے مسائل میں، ایک ایسے ملک میں، جہاں مسلمان عملاً مکی دور کی زندگی گزار رہے ہیں ۔پوری قوم کو من حیث القوم اسلام کی دعوت دینا تھا، اس کی تفہیم کرنی تھی اور تصادم اور ٹکراؤ سے گریز کرنا تھا، یا کٹر پنتھیوں سے حدیبیہ کی صلح کو سامنے رکھ کر بات چیت کرنی تھی لیکن وہاں ایسا طریقہ اختیار کیا گیاہے جس کا سب سے پہلے دینی، دعوتی، اجتماعی اور سماجی نقصان ہوتا ہے ، پھر سیاسی و انتظامی نقصانات کا سلسلہ چلتا ہے ۔ان کا یہ بھی استدلال ہے کہ اسلامی شریعت میں مسجد کی کسی جگہ سے مختلف اسباب کی بنیاد پر منتقلی کی دلیلیں اور نظیریں موجود ہیں، اور سب سے بڑی نظیر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل ہے ، کہ کوفہ کی ایک مسجد کو انہوں نے دوسری جگہ منتقل کرکے مسجد کی جگہ کھجوروں کا بازار قائم کیاتھا۔وائرل بیان میں مولانا کہتے ہیں کہ ‘‘من حیث القوم دعوتِ عام اور تمام باشندگانِ ملک کے لئے اصلاحی اور دعوتی خطاب کا راستہ صرف یہ ہے کہ مسجد وہاں سے منتقل کرنے کی بات کریں، اور تمام مساجد و مراکزِ دین کے تحفظ کا معاہدہ کریں، اس شکست میں ہماری فتح پوشیدہ ہے ‘‘۔