وزنی ترین مصری خاتون "چند روز "میں امارات منتقل ہوگی

01:17PM Sun 30 Apr, 2017

دبئی – اسماعيل نعار
ایسا نظر آتا ہے کہ دنیا کی سابقہ وزنی ترین مصری خاتون ایمان عبدالعاطی کی اگلی منزل متحدہ عرب امارات ہوگی۔ دبئی اور شمالی امارات کے لیے VPS Healthcare گروپ کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر شجیر غفار نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ایمان آئندہ چند روز میں ابوظبی پہنچیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک طبی ٹیم اس وقت بھارت میں سیفی ہسپتال میں موجود ہے جہاں ایمان نے اپنے علاج کا آغاز کیا تھا۔ یہ ٹیم مصری خاتون کی صحت کا جائزہ لے رہی ہے اور اسے اماراتی دارالحکومت کے برجیل ہسپتال منتقل کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی انگریزی ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر غفار نے بتایا کہ اماراتی حکام نے ایمان اور اس کی بہن شیماء کے لیے غیر معینہ مدت کا ویزا جاری کر دیا ہے۔ ڈاکٹر غفار نے امارات اور بھارت کی جانب سے ایمان کے لیے ابھی تک پیش کی جانے والی بھرپور سپورٹ پر دونوں ملکوں کے حکام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایمان کو طبعی زندگی کی جانب واپس لانے کے واسطے ایک جامع پروگرام کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ ایمان عبدالعاطی اسکندریہ شہر میں واقع اپنے گھر میں گزشتہ 25 برسوں سے صاحبِ فراش تھی۔ اس کی وجہ ایمان کا وزن تھا جو ایک موقع پر 500 کلوگرام تک پہنچ گیا تھا۔ ایمان کو رواں برس فروری میں قاہرہ سے بھارت لایا گیا تھا۔ اس سے قبل مصری شہری دفاع کی فورس نے ایمان کے گھر میں اس کے کمرے کی دیوار گرائی تاکہ کرین کے ذریعے اسے گھر سے باہر لایا جا سکے۔ بعد ازاں ایمان کو کارگو جہاز تک پہنچانے کے واسطے اس کے لیے ایک خصوصی بستر تیار کیا گیا۔
 دوسری جانب ایمان کی بہن شیماء نے کچھ عرصہ قبل بھارتی ڈاکٹر اور ہسپتال پر دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے باور کرایا تھا کہ اس کی بہن کا وزن کم نہیں ہوا جیسا کہ اس کے معالج نے دعوی کیا تھا۔
شیماء نے "العربیہ" نیوز چینل کے ساتھ ایک سابقہ گفتگو میں کہا تھا کہ وہ ایمان کے امارات منتقل کیے جانے پر خوش ہیں اس لیے کہ انہیں بھارت میں اپنی بہن کے لیے پیش کی جانے والی طبی دیکھ بھال اور خدمات پر اعتماد نہیں رہا۔