کاویری تکنیکی کمیٹی کے قیام کا مسئلہ ۔وکیلوں کے مشوروں کے مطابق موقف اپنانے حکومت کا اتفاق

02:45PM Wed 10 May, 2017

بنگلورو۔(بھٹکلیس نیوز) کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں ماہرین کمیٹی کی تشکیل کو منظور کیا جائے یا نہیں اس سلسلے میں آج وزیر اعلیٰ سدرامیا نے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور ماہرین قانون سے مشورہ کیا۔ سیاسی قائدین کی میٹنگ میں طے کیاگیا کہ کاویری مسئلے پر کرناٹک کے وکیل فالی ایس ناریمن سے اس سلسلے میں تفصیلی بات چیت کی جائے اور ان کے مشورہ کی روشنی میں حکومت اپنا موقف اپنائے۔ کاویری معاملہ میں ماہرین کی کمیٹی تشکیل دینے کیلئے سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کی طرف سے دئے گئے مشورہ پر آج سدرامیا کی قیادت میں منعقدہ ایوانوں کے لیڈروں کی میٹنگ میں تبادلۂ خیال کیاگیا۔ اس میٹنگ میں اتفاق رائے سے یہ طے ہوا کہ ناریمن کے مشورہ کے مطابق ہی کوئی بھی پہل کی جائے۔ میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر برائے آبی وسائل ایم بی پاٹل نے کہاکہ کاویری تنازعہ کے سلسلے میں مرکزی حکومت کی طرف سے ماہرین کمیٹی تشکیل دئے جانے کے فائدے اور نقصانات دونوں کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کے بعد ہی حکومت اپنا موقف ظاہر کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں کرناٹک کی طرف سے سپریم کورٹ میں پیروی کرنے والے سینئر وکیل فالی ایس ناریمن سے بات چیت کی جائے گی ، اور ان کے مشورہ کے مطابق ہی حکومت کام کرے گی۔ اگلے ماہ دہلی میں وزیر اعلیٰ اور ناریمن کی ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے مسٹر پاٹل نے بتایاکہ اس ملاقات کے دوران ناریمن کی طرف سے حکومت کو جو بھی مشورہ دیا جائے گااس کی حکومت مکمل تعمیل کرے گی۔ کاویری مسئلہ پر ماہرین کی کمیٹی کے سلسلے میں ناریمن کے موقف کو قطعی قرار دیتے ہوئے ایم بی پاٹل نے کہاکہ اگر ناریمن کہیں کہ اس کمیٹی کی تشکیل کو منظور کیا جائے تو کرناٹک کی طرف سے اسے منظور کیاجائے گا، اگر نہیں تو منظورنہیں کیا جائے گا۔ ماہرین کی کمیٹی تشکیل دینے کے متعلق مرکزی حکومت نے نوٹی فکیشن کا مسودہ جاری کیا ہے۔ اس نوٹی فکیشن میں بعض نکات کا ازالہ نہیں ہوپایا ہے۔ اس کے علاوہ ہنگامی حالات میں پانی کی تقسیم کے فارمولے کے سلسلے میں بھی مرکزی حکومت نے اب تک کوئی بھی ٹھوس حل پیش نہیں کیا، اسی لئے ریاستی حکومت نے وکیلوں کے مشوروں کے مطابق کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔