ہندوستانی اسلام رواداری پر مبنی ہے: قومی حفاظتی مشیر اجیت ڈوبھال
12:31PM Mon 20 Jun, 2016
علی گڑھ20؍جون: قومی حفاظتی صلاح کار مسٹر اجیت ڈوبھال نے تسلیم کیا ہے کہ ہندوستانی مسلم نوجوانوں میں انتہا پسندی شدت کے ساتھ نہیں بڑھی ہے۔ انہوں نے پونہ کے ایک پروگرام میں کہا کہ ہندوستان میں چند مسلمان ایسے ہوسکتے ہیں جن میں انتہا پسندی ہو لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ وہ پونہ میں یوتھ آف ڈیولپمنٹ پروگرام میں افتتاحی خطبہ پیش کر رہے تھے۔
مسٹر ڈوبھال نے کہا کہ تقریباً سبھی علمائے کرام اور مسلم مذہبی پیشواؤں نے دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی انتہا پسندی کے تعلق سے اپنے افکار و نظریات کو تبدیل کرنا چاہئے۔ ہندوستان میں جس طرح مسلمان اسلام کے نرم رخ کو اختیار کئے ہوئے ہیں اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مسٹراجیت ڈوبھال نے کہا کہ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ مغلوں کے عہد میں بھی گائے کا گوشت ممنوع تھا۔
مسٹر اجیت ڈوبھال نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں نے دہشت گردی خصوصی طور پر عالمی سطح پر دہشت گردی میں بڑی تعداد میں حصہ نہیں لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یوروپ سے ہزاروں مسلم نوجوانوں نے سیریا اور عراق میں آئی ایس جیسی دہشت گرد تنظیموں کو اپنی خدمات پیش کیں لیکن ہندوستان سے چند ہی نوجوان وہاں گئے اور آخر میں واپس بھی آگئے۔انہوں نے کہا کہ مسلم تنظیموں جیسے جماعتِ اسلامی ہند نے نہ صرف دہشت گردی اور دہشت گردانہ واقعات کی مذمت کی ہے بلکہ اس کے خلاف جدو جہد بھی شروع کی ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ سیمی جماعتِ اسلامی ہند کی طلبأ شاخ کے طور پر تشکیل دی گئی تھی لیکن جیسے ہی سیمی کا جھکاؤ دہشت گردی کی جانب ہوا جماعتِ اسلامی ہند نے اس سے اپنا تعلق ختم کرلیا۔
مسٹر اجیت ڈوبھال نے مزید کہا کہ ہم پیسہ کمانے کی تگ و دو میں اپنے خاندان کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو فراموش کرتے جارہے ہیں۔ ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چند انتہاپسند مسلم نوجوانوں کودہشت گردوں کی ویب سائٹ پر چیٹنگ کرنے کے الزام میں گرفتار کیاگیا تھا لیکن ان کی بغیر کسی قانونی سزا کے کاؤنسلنگ کی گئی اور انہیں ان کے سرپرستوں کے سپرد کردیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ مدارس مسلم نوجوانوں میں سدھار پیدا کر رہے ہیں اور ہمیں ان مدارس پر اعتماد کرنا چاہئے۔
مسٹر ڈوبھال نے کہا کہ ہندوستان ایک کثیر المذاہب اور کثیر لثانی ملک ہے جہاں مختلف مذاہب کے علاوہ مختلف بولیاں رائج ہیں جو سینکڑوں برس سے بولی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی تعمیر ایک مسلسل عمل ہے اور تھوڑے وقت میں یہ تکمیل کو نہیں پہونچ سکتا ہمیں ا س کے تسلسل کو جاری رکھانا چاہئے اور ملک کی عظیم وراثت اختلاف میں اتحاد کو قائم رکھنا چاہئے کیونکہ سب مذاہب اور تمام بولیاں ، تمام تہذیب و ثقافت مل کر ہی ہندوستان بنتا ہے جو ہمیں ہر شئے سے زیادہ عزیز ہے۔
ویڈیوں دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔
https://www.youtube.com/watch?v=8vo19L9r7tw