جے ڈی ایس میں اختلافات اور پھوٹ پراجول کے بیانات کولیکر کئی لیڈروں کی وضاحت
01:36PM Sun 9 Jul, 2017
بنگلور(بھٹکلیس نیوز ):۔ سابق وزیر اعظم اور جے ڈی ایس کے قومی صدر ایچ ڈی دیوے گوڈا کے پوتے اور ابھرتے نوجوان لیڈر پراجول کمار کے بیانات نے پارٹی میں نئی ہلچل پیدا کردی ہے اور اس معاملہ کو لیکر کئی لیڈروں نے وضاحت کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔جو کچھ بھی ہو دیوے گوڈا خاندان کے ایک شخص نے کھلے عام اس طرح کے بیانات دینے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور یہاں بھی اندرونی اختلافات اور پھوٹ ہے جو آئندہ چل کر پارٹی کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ پراجول کمار گذشتہ پانچ سالوں سے پارٹی کی تمام سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور انہوں نے میسور ضلع ہنسور اسمبلی حلقہ سے اسمبلی انتخابات لڑنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے انہوں نے اس حلقہ میں لوگوں کے مسائل حل کرنے اور انکی خدمت کرنے کاکام شروع کررکھا ہے اور انہوں نے اس حلقہ میں بہت حد تک اپنی الگ پہچان بنالی ہے۔ وہ اپنے ذاتی خرچ سے کئی ہیلتھ کیمپ۔ مریضو ں کو دوائیا ں اور دیگر چیزوں کی فراہمی۔ غریب طلباء کو فیس دینے ۔کتابیں۔ نوٹ بکس کی تقسیم۔ غریب لڑکیوں کی شادی کے لئے مالی امداد اور دیگر کئی سماجی خدمات دینے کے ذریعہ اس حلقہ میں ایک مقبول لیڈر بن گئے ہیں ان کی تمام محنت اور کوششوں پرسابق وزیر ایچ وشواناتھ نے پانی پھیر دیا۔ وشواناتھ نے اسی اسمبلی حلقہ ہنسور سے اسمبلی انتخابات لڑنے کیلئے ٹکٹ دینے کی مانگ کی ہے اور اسی شرط پر وشواناتھ نے جے ڈی ایس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ جے ڈی ایس کرناٹک یونٹ کے صدر ایچ ڈی کمار سوامی کھلے عام طورپر اعلان کیا ہے کہ وشواناتھ کو ہنسور اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ دیاجائے گا۔ کمار سوامی کے اس اعلان پر پراجول کمار ناراض ہوگیا ہے اور اس نے کھلے عام کہا کہ پارٹی میں بھی سوٹ کیس کا کلچر لچل رہا ہے اور جو شخص سوٹ کیس دیتا ہے اسے سامنے بٹھایاجاتاہے اور پارٹی کے ایماندار لیڈروں اور کارکن کو پچھلی سیٹوں پر بٹھایا جاتا ہے ۔اسے اس کے چاچا کمار سوامی پر بالکل اعتماد نہیں ہے اور وہ کس وقت کونسی بات کرتے ہیں خود انہیں پتہ نہیں رہتا اور پارٹی کو فنڈدینے والوں کو پارٹی میں ٹکٹ دینے کے علاوہ بڑے عہدے بھی دئے جاتے ہیں ۔پہلے سے ہی اسمبلی حلقوں میں انتخابات لڑنے کے لئے تیاری کررہے لیڈروں کو ہٹا کر سوٹ کیس دینے والوں کو ٹکٹ دیا جارہا ہے۔ اس لئے اب اس پارٹی پر جو اعتماد یابھروسہ تھا وہ ختم ہوتا جارہا ہے۔