ملک کی آزادی میں مسلمانوں کا کردار

03:25PM Wed 16 Aug, 2017

نئی نسل کو تاریخ سے آگاہ کیا جانا ضروری: مفتی سلیم بنگلور(بھٹکلیس نیوز):۔ مسجد علی ابوالحسنین کے ماتحت چلنے والے مدرسہ عربیہ شمس القرآن لکسندرا بنگلور میں 15 اگست کو یوم آزادی کی تقریب منعقد ہوئی مسجد کے صدر الحاج صدر اللہ پیارو صاحب سکریٹری الحاج اعجاز احمد صاحب اور اراکین کمیٹی نے مدرسہ اور اسکول کے طلباء کی موجودگی میں ترنگا لہرایا ، بچوں نے قومی ترانہ پڑھا۔ مدرسہ کے مہتمم مفتی محمد سلیم نے تحریک آزادی ہند کی روشنی میں علماء دیوبند کے کردار کے عنوان پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ ملک کو انگریزوں سے آزاد کرانے کے لئے پہلی جنگ 1754 میں نواب علی وردی خان نے لڑی۔ اس کے بعد اِن کے نواسے سراج الدولہ نے 1757میں دوسری جنگ لڑی لیکن میر جعفر کی غداری کی وجہ انہیں شہید کردیا گیا ۔تیسری جنگ 1782میں ٹیپو سلطان نے لڑی اِس جنگ میں انگریزوں کو شکست ہوئی چوتھی جنگ 1792میں ٹیپو سلطان نے لڑی ۔ پانچویں جنگ 1799میں ٹیپو سلطان نے لڑی اِس جنگ میں میر صادق کی غداری کی وجہ سے ٹیپوسلطان کو شہید ہونا پڑا۔مفتی سلیم نے بتایا کہ ملک کو آزاد کرانے کی تحریک کو علماء کرام نے باقی رکھا۔1803 میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے ہندوستان کو دار لحرب قرار دیا اور انگریزوں کے خلاف فتویٰ جاری کیا۔1831میں سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے تحریک بالاکوٹ کے نام سے جنگ لڑی 1857میں امداد اللہ مہاجر مکی کی قیادت میں مولانا قاسم نانوتوی مولانا رشید احمدگنگوھی ، مولانا کفایت اللہ ، مولانا ابولکلام آزاد، مولانا محمود حسن ،مولانا حسین احمد مدنی اور دیگر علماء کرام نے اِس ملک کے لئے قربانیاں پیش کی ہے۔ مفتی سلیم نے کہا کہ اِس عظیم ملک ہندوستان کو آزاد کرانے میں مسلمانوں کی جو قربانیاں تھیں آج اِس کو فراموش کردیا گیا ہے نوجوان نسل کو چاہئے کہ وہ تاریخ کا مطالعہ کریں اور فخر سے کہیں اِس ملک کی آزادی ہم بھی برابر کے علمبردار رہے ہیں۔