طلاق ثلاثہ بل کا راجیہ سبھا میں پیش نہ ہونا اطمینان بخش؛ اپوزیشن پارٹیز کا رخ اور رویہ مثبت رہا

12:19PM Thu 10 Jan, 2019

نئی دہلی:10؍جنوری2019ء حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب (جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈ)نے اپنے ایک پریس نوٹ میں کہا کہ طلاق ثلاثہ کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مرکزی حکومت نے طلاق ثلاثہ بل پیش کیا تھا، جو ایک سال پہلے لوک سبھا سے پاس ہو گیاتھا، اور راجیہ سبھامیں آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈکی مسلسل کوشش اور اپوزیشن پارٹیز کی سخت مخالفت کی وجہ سے رک گیا تھا، پھر مرکزی حکومت کی جانب سے آرڈیننس لایا گیا مقام شکر ہے کہ اس آرڈیننس کی مدت بھی ختم ہوگئی ہے اور اب وہ بے اثر ہے، اسی طرح مرکزی حکومت نے کچھ ترمیم اور تبدیلی کے ساتھ حال ہی میں دوبارہ یہ بل لوک سبھا میں پیش کیا اوراپوزیشن پارٹیز کی سخت مخالفت کے باوجوداسے منظور کر لیاگیا، حکومت اسے راجیہ سبھا سے منظور کروانا چاہتی تھی مگر ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ مرکزی حکومت اس بل کو راجیہ سبھا میں پیش نہیں کرسکی، اس سلسلے میں اپوزیشن پارٹیز کارخ اوررویہ مثبت رہا، اور انہوں نے اس بات کو محسوس کر کے کہ یہ بل مسلمان عورتوں کی مشکلا ت میں اضافہ کرنے والا اور آئین ہند کی بنیادی دفعات سے ٹکرانے والا ہے،اس کی زبردست مخالفت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کی اور حق و انصاف کا ساتھ دیا۔ آل انڈیا مسلم پر سنل لا بورڈکا یہ احساس ہے کہ طلاق ثلاثہ بل مسلم کمیونیٹی سے رائے لیے بغیر من مانے طریقے پر بنایا گیا ہے، اور یہ بل غلطیوں اور خامیوں کا پلندہ مسلمان عورتوں کو نقصان پہنچانے والااور خاندانی نظام کو تباہ کرنے والا ہے۔ اس لیے مرکزی حکومت کو اس پر زور نہیں دیناچاہئے ، اوردستور ہند میں دی گئی مذہبی آزادی کومتاثر کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔