بات چیت کے ذریعہ میسور کے وجئے شری پورا لے آؤٹ کے تنازعہ کو حل کرلیا گیا 

05:05PM Thu 1 Jun, 2017

وزیر اعلی ٰ سدرامیا نے میسور کے شاہی خاندان کے چدو رنگا کانتراج ارس کو منالیا۔ میسور (بھٹکلیس نیوز)گزشتہ کئی بردسوں میسور کا وجئے شری پورا لے آؤٹ کا تنازعہ جاری تھا اور یہاں کے مکینوں کو اپنے گھر بچانے کی کافی فکر تھی۔ لیکن آخر کار اس معاملہ کو بات چیت کے ذریعہ حل کرلیا گیا۔ میسور کے شاہی خاندان کے ایک فرد شری چدو رنگا کانتراج ارس نے میسور اربند ڈیولپمنٹ کی جانب سے زمین کو اپنی تحویل میں لے لینے کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی تھی۔ شری ارس نے وجئے شری پورا کے مکینوں کی خاطر اپنی عرضی کو سپریم کورٹ سے واپس لینے کے لئے راضی ہوگئے۔ شری ارس کی عرضی کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ میسور کے وجئے شری پورا کے مکین پر ناجائز قبضہ کئے ہوئے ہیں اسلئے وجئے شری پورا پر تعمیر کئے گئے تمام مکانوں کو ڈھادینا چاہئے ۔ یہاں میسور میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں میسور اربن ڈیولپمنٹ اتھارتی کے چیرمین ڈی دھرواکمار اور شاہی خاندان کے شری چدو رنگا کانتراج ارس نے بتایا کہ آج بروز جمعرات وزیر اعلی ٰ شری سدرامیا کی رہائش میں ہوئے ایک اہم میٹنگ میں اس مسئلہ کو بات چیت کے ذریعہ حل کرلیا گیا ہے۔ وزیر اعلی ٰ شری سدرامیا کی رہائش گا ہ میں منعقدہ ایک اہم میٹنگ میں وزیر اعلی ٰ کے علاوہ موڈا کے چیرمین ڈی دھروا کمار، شاہی خاندان کے شری ارس اور موڈا کے افسران موجود تھے۔ حل کئے فیصلہ کے تحت شری ارس سپریم کورٹ میں داخل کی گئی عرضٰ کو واپس لے لینگے اور میسور ار بن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے دئے جانے والے معاوضہ کو قبول کرلینگے۔ موڈا کے چیرمین ڈی دھروا کمار نے بتایا کہ سال 2001 کے گائڈ لائنس پر عمل کرتے ہوئیکرناٹکا لیانڈ اکویزیشن آکٹ 1961 کے تحت ہی موڈا کی جانب سے شری ارس کو معاوضہ دیا جائیگا۔ معاوضہ کے علاوہ سود بھی شری ارس کو دیا جائیگا۔ اس موقع پر چیرمین ڈی دھروا کمار نے اعلا ن کیا کہ موڈا کی جانب سے قانون کے تحت جتنا معاوضہ دینا چاہئے ہم دینے کے لئے تیار ہیں۔ اگر کسی متاثرہ فرد کو معاوضہ میں کمی نظر آئے تو وہ عدالت سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ اگر عدالت نے معاوضہ کی رقم میں اضافہ کیا تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ وجئے شری پورا کی زمین 94.28 ایکٹر پر مشتمل ہے۔ جس کے مالک شہر میسور کے راجہ شری جئے چامراجا واڈئیر کے داماد شری کے بی رام چندا راجے ارس کی ہے۔ بعد میں جب سے اس زمین کو بچون میں تقسیم کی گئی تو ایک حصہ چدورنگا کانتراج ارس کے حصہ میں آئی۔ بعد میں سال 1988میں اس وقت کے سٹی ایمپومنٹ ٹرسٹ بورڈ نے اس زمین کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اوور چدو رنگا نے بعد میں سٹی امپرومنٹ ٹرسٹ بورڈ کے فیصلے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹاکھٹا یا۔ موڈ ا 15 ایکٹر زمین کو جے یس یس مہاودھیا پیتھا کو الات کیا اور بقیہ 79.28 ایکٹر زمین پر وجئے شری پورا لے آؤٹ تعمیر کرکے عوام میں سائٹ تقسیم کئے۔ جس پر فی الحال عوام نے 184 پکے مکانات , 80 ٹائلس کے مکانات اور آٹھ منگلورٹائلس کے مکانات, دو مندر تعمیر کئے گئے ہیں۔ اور 65 سائٹس خالی پڑے ہوئے ہیں۔عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مورخہ 15 ڈسمبر 2015 کوسپریم کورٹ نے موڈا کے خلاف سنادیا۔ اور اس لے آؤٹ کو خالی کرنے 6 ماہ کا وقت دیا بعد میں جون 2016 میں موڈا کی جانب سے مزید ایک عرضی داخل کی گئی اورمزید وقت کی گزارش کی۔عدالت نے صرف تین ماہ کا وقت دے کر تنبیہ کی تھی کی اگر مورخہ 15 ستمبر 2016 تک وجئے شری پورا میں تعمیر کئے گئے گھرون کو پوری طرح ڈھا دینا چاہئے ورنہ اسکو سپریم کورٹ کی توہین سمجھی جائیگی۔ لیکن عدالت نے جے یس یس مہاودھیا پیٹھا کو اس تنبیہ سے مسثنی ٰ قرار دیا تھا کیونکہ اس جگہ پر ایک تعلیمی ادارہ تعمیر کیا گیا تھا۔