ریاست کے لئے الگ پرچم کئی لوگوں کی جانب سے حمایت اور مخالفت
03:58PM Fri 21 Jul, 2017
بنگلور( بھٹکلیس نیوز):۔ ریاستی حکومت نے ریاست کیلئے الگ پرچم تیار کرکے اسے قانونی حیثیت دینے کیلئے نو لوگوں کو لیکر ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور یہ معاملہ ملک بھر میں گرما گرم بحث کا باعث بنا ہے۔کئی سیاستدانوں نے اس کی مخالفت کی ہے تو چند سیاستدانوں نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ریاست میں برسراقتدار کانگریس نے سوا ل کیا ہے کرناٹک میں الگ پرچم رہا تو اس میں کیا خرابی ہے جبکہ ریاست میں الگ علاقائی ترانہ بھی ہے۔ بی جے پی اور جے ڈی ایس نے دعوی کیا ہے کہ ملک میں ایک ملک ایک ترنگا کی پالیسی ہے ۔دستور میں الگ پرچم بنانے کا اختیار نہیں ہے او رکمیٹی بھی تشکیل دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ سوشیل میڈیا میں اس معاملہ کو لیکر حمایت کی جارہی ہے اور ایک طرح سے ریاست کے لوگ حکومت کے فیصلہ کا خیر مقدم کررہے ہیں دوسری طرف اس کی مخالفت کررہی بی جے پی او رجے ڈی ایس کو خوب آڑے ہاتھوں لیا ہے اور آنے والے اسمبلی انتخابات میں دونوں پارٹیوں کی کامیابی پر اس کا گہرا اثر پڑسکتا ہے ۔کرناٹک میں زبردستی ہندی تھوپنے کے معاملہ میں جس طرح سوشیل میڈیا میں مخالفت ہوئی تھی بالکل اسی طرح پرچم کے معاملہ کولیکر زیادہ بحث اور چرچہ جاری ہے۔ اس کے درمیان ہی وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ حکومت جان بوجھ کر اس معاملہ میں الجھنا نہیں چاہتی۔لیکن چند کنٹرا نوازوں نے ہی الگ پرچم کی مانگ کی تھی اور یہ مانگ کئی سالوں سے زیر التوا ء میں تھی۔اس لئے حکومت نے پرچم کس طرح کا ہونا چاہےئے او رڈیزائن کیساہوگا۔ا س تعلق سے تفصیل رپورٹ دینے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔اگر بی جے پی اور جے ڈی ایس میں ہمت ہے تووہ بتائیں کہ ریاست کے لئے الگ پرچم کی ضرورت ہے۔بی جے پی کے لیڈروں نے پرچم کی مخالفت کی ہے اور کہا کہ اگر ریاست کے لئے الگ پرچم کی مانگ کی جارہی ہے تو قومی ترنگا کی توہین ہوگی۔حکومت نے اپنے گھوٹالوں اور بدعنوانیو ں پر پردہ ڈالنے کے مقصد سے پرچم کا معاملہ اٹھایا ہے۔ریاست کے عوام اتنے بھی بیوقوف نہیں ہیں اور آنے والے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو سبق سکھانے والے ہیں۔دوسری طرف جے ڈی ایس نے اس تنازعہ میں پڑنے سے صاف طورپر انکار کیا ہے اور بتایا کہ وہ اس تنازعہ میں پڑنا نہیں چاہتی اور ریاست کیلئے الگ پرچم کی ضرورت ہے اور جب سرکاری اسکولوں اور سرکاری تقاریب میں علاقائی ترانہ گایا جاتا ہے تو پرچم کیوں نہیں۔