ناصر یافعی کامقدمہ قانونی پیچیدگیوں کا شکار
03:24PM Wed 15 Mar, 2017
عدالت میں اے ٹی ایس سے جب کوئی جواب نہ بن پڑا تو یہ مقدمہ این آئی اے کے حوالے کردیا گیا
ممبئی۔(بھٹکلیس نیوز) داعش سے تعلق کے الزام میں پربھنی سے گرفتار کئے گئے ناصر یافعی کے مقدمے میں تفتیشی ایجنسیوں کی جانب سے پیدا کی گئی قانونی پیچیدگیوں نے جہاں ملزم کی رہائی کے تعلق سے غیریقینی صورت حال پیدا کردی ہے وہیں دفاع کی جانب سے اس کی مضبوط پیروی نے تفتیشی ایجنسیوں کی دھاندھلی کو بے نقاب کردیا ہے۔ دفاع کی جانب سے اورنگ آباد کی عدالت میں ڈویژن بنچ کے روبرو داخل کی گئی رٹ پٹیشن کا جواب جب اے ٹی ایس سے نہیں بن پڑا تو اس نے یہ مقدمہ این آئی اے کے حوالے کردیا ہے اور این آئی اے نے اس مقدمے سے متعلق تمام زیرِ سماعت معاملات کو ممبئی کی عدالت میں ٹرانسفر کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جسے عدالت نے منظور نہ کرتے ہوئے آئندہ سماعت کے لئے ۳۱ مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس مقدمے کی قانونی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹرکررہی ہے اس بات کی اطلاع مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صدر جمعیۃ علماء مہا راشٹر نے دی۔
واضح رہے کہ ناصر یافعی کو گرفتار کرنے کے بعد اے ٹی ایس نے اس کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دیگر سنگین معاملات کے علاوہ یو اے پی اے کے تحت بھی معاملہ درج کیا تھا اور ملزم کو ناندیڑ کے سی جے ایم کے روبرو پیش کرتے ہوئے نہ صرف وہیں سے ریمانڈ حاصل کیا بلکہ اس کے خلاف سی جے ایم کے روبرو فردِ جرم بھی داخل کیا تھا۔ جبکہ یو اے پی اے کے تحت درج مقدمے کی ابتدائی سماعت کا اختیار سیشن عدالت یا پھر خصوصی این آئی اے عدالت کو ہی ہے۔ اے ٹی ایس کی اس دھاندلی کے خلاف دفاع کی جانب سے اورنگ آباد کی ڈویژن بنچ کے روبرو رٹ پیٹشن داخل کیا گیا، جس پر عدالت نے اے ٹی ایس کو نوٹس جاری کردیااور اے ٹی ایس عدالت میں دفاع کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراض کا جواب دینے سے قاصر رہی۔ اس کے بعد جب اے ٹی ایس نے کوئی جواب نہ بن پڑا تواس نے یہ مقدمہ این آئی اے کے حوالے کردیا اور این آئی اے نے ممبئی کی عدالت میں ایک درخواست داخل کرتے ہوئے اس مقدمے سے متعلق تمام معاملات و دستاویزات کو ممبئی کی خصوصی این آئی اے کے حوالے کئے جانے کی درخواست داخل کی۔ چونکہ اورنگ آباد ہائی کورٹ میں دفاع کی جانب سے اس معاملے سے متعلق ریٹ ڈویژن بنچ کے روبرو زیرسماعت ہے اورممبئی میں این آئی اے کی درخواست سنگل جج کی عدالت میں ہے، اس لئے دونوں عدالتیں ایک دوسرے کے مقدمات میں کوئی دخل اندازی نہ کرتے ہوئے اس کی سماعت کو ۳۱مارچ تک کے لئے موخر کردیا ہے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی جانب سے اس مقدمے کی قانونی پیروی کرنے والے لیگل سیل کے سکریٹری ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان کے مطابق اس معاملے میں اے ٹی ایس اور این آئی اے کا آپسی تال میل صاف طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ہمیں اللہ پر بھروسہ ہے اور عدلیہ پر یقین ہے کہ اہم ترین قانونی نقطہ پر اس بے قصور کو انصاف ملے گا ۔
اس مقدمے میں cognizance ( مقدمے کے بارے میں یہ فیصلہ لینا کہ واقعی یہ جرم وقوع پذیر ہوا ہے اور یہ قابلِ سماعت ہے یا نہیں) لیا۔ ہمیں یقین تھا کہ عدالت میں ہمارے پیٹشن کا جواب نہ اے ٹی ایس دے پائے گی اور نہ ہی سی جے ایم ہی اس کی توضیح کرپائے گی، مگر عین وقت میں جبکہ ملزم کی رہائی کا امکان پیدا ہوگیا تھا، اے ٹی ایس نے اسے مزید الجھاتے ہوئے این آئی اے کو فریق بنادیاہے۔ اب اس مقدمے کی تفتیش این آئی اے نے اپنے حوالے لے لیا ہے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اب این آئی اے کی جانب سے اس کی تفتیش کے نام پر ایک طویل عرصہ صرف کیا جائے گا اور اتنے دنوں تک بے قصور ہونے کے باوجود ملزم ناصر یافعی جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہے گا۔بہر حال اب یہ مقدمہ این آئی اے کے حوالے ہوگیا ہے اور عدالت میں یہ اپنی قانونی پیچیدگیوں کی بناء پر الجھتا جارہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت اس معاملے میں کیا رخ اختیار کرتی ہے۔
وہیں دوسری جانب سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ ندیم صدیقی نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ہم اس مقدمے کی قانونی پیروی اخیرمرحلے تک کرتے رہیں گے اور انشاء اللہ ملزم کو انصاف دلا کر ہی دم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے الزامات میں جتنے بھی مسلمانوں کوگرفتار کیا جاتا ہے، ان میں سے بیشتر کے معاملات میں اسی طرح کی دھاندلی کی جاتی ہے جس طرح کی دھاندلی ناصر یافعی کے معاملے میں سامنے آئی ہے۔ میں اپنے وکلاء کے کاوشوں کی ستائش کر تاہوں کہ انہوں نے عدالت کے روبرو اسے واضح کیا۔ ہمارا یہ موقف ہے کہ اگر تفتیشی ایجنسیاں قانونی کی مکمل پاسداری کے ساتھ کام کریں تو گرفتار شدہ بیشتر ملزمین رہا ہوجائیں گے، مگر یہ قصداً مقدمات کو الجھاتی رہتی ہیں، تاکہ ملزمین کی رہائی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی جاسکے۔