لوک سبھا الیکشن: پرینکا کی انٹری کے بعد بی جے پی نے یوپی کی لڑائی کے لئے بنایا یہ منصوبہ
12:07PM Tue 12 Feb, 2019
پرینکا گاندھی کی سیاست میں انٹری کے بعد اترپردیش کی سیاست گرم ہو گئی ہے۔ اپنے پہلے روڈ شو میں پرینکا نے جس طرح کی بھیڑ اکھٹا کی ہے، اس کے بعد ایس پی۔ بی ایس پی اتحاد کے ساتھ ساتھ بی جے پی بھی اپنی انتخابی حکمت عملی پر از سرنو غور کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ ایس پی۔ بی ایس پی کے لیڈران یہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ آخر پرینکا کے آنے کے بعد کانگریس پر حملہ بولیں یا کانگریس کو گٹھ بندھن میں شامل کریں۔ حالانکہ بی ایس پی کانگریس پر حملہ بولنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑ رہی ہے جبکہ ایس پی چپی سادھے ہوئے ہے۔
وہیں، بی جے پی قیادت پرینکا کی انٹری کو ایک بڑے موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ پارٹی کے لیڈران پرینکا کے بہانے اترپردیش کی لڑائی کو سہ رخی کرنا چاہتے ہیں جس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو مل سکے۔
بی جے پی ذرائع کی مانیں تو پارٹی نے پرینکا گاندھی کی سیاسی انٹری کے بعد اپنی حکمت عملی میں کافی تبدیلی کرنے جا رہی ہے۔ جس میں سب سے پہلا ہے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جیسے لیڈروں کا زیادہ سے زیادہ استعمال ۔ پارٹی چاہتی ہے کہ یوگی جیسے لیڈروں کی زیادہ تقریر سے الیکشن میں پارٹی ہندوتوا جیسے مسائل کو اہم رکھے۔ ساتھ ہی پارٹی لیڈران اپنے اجلاس میں ایس پی۔ بی ایس پی کی بجائے کانگریس پر سیدھا حملہ کریں جس سے رائے دہندگان میں یہ پیغام جائے کہ کانگریس ہی اصل اپوزیشن پارٹی ہے۔ پارٹی کے چھوٹے رہنما گاندھی خاندان اور رائے بریلی۔ امیٹھی کے بہانے راہل اور پرینکا پر حملہ کریں گے۔ذرائع کے مطابق، پارٹی کے بڑے رہنما اترپردیش میں راہل گاندھی کو اپوزیشن کا وزیر اعظم امیدوار بتاتے ہوئے راہل اور وزیر اعظم مودی کا موازنہ کریں گے۔ ساتھ ہی سورن ریزرویشن کے بہانے کانگریس کو سورن مخالف بتائیں گے۔ پارٹی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، ونے کٹیار اور کیشو پرساد موریہ جیسے ہندوتو وادی چہرے ایودھیا میں رام مندر تعمیر کا مسئلہ اٹھا کر کانگریس پارٹی پر ہندو مخالف ہونے کا الزام لگائیں گے۔
واضح ہے کہ پارٹی کی ساری حکمت عملی اس بات پر ٹکی ہے کہ ملک کے ساتھ ساتھ یوپی کی زیادہ تر سیٹوں پر بھی بی جے پی کی لڑائی کانگریس سے ہے۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ بی جے پی اس حکمت عملی کے ذریعہ حکومت مخالف ووٹوں اور اقلیتی ووٹوں، دونوں میں تقسیم کرانا چاہتی ہے جس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو ملے گا۔