مخصوص نظریات کوتھوپنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی، سازشوں کے خلاف متحدہوناضروری:عبدالرحیم قریشی

04:02PM Sun 6 Sep, 2015

مسلم پرسنل لاء بورڈکی دین بچائو،دستوربچائوتحریک کاحیدرآبادمیں خصوصی اجلاس سیکولرزم کی بقاء کیلئے بلاتفریق مذہب وملت سبھی طبقات کوساتھ آنے کی دعوت،بھائی چارگی اورامن ومحبت کوعام کرنے کی اپیل حیدرآباد6ستمبر(پریس ریلیز)آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈنے دین بچائو،دستوربچائوتحریک کوآگے بڑھاتے ہوئے بڑھتی فرقہ پرستی اورملک پرایک خاص طبقہ کی طرف سے اپنے نظریات تھوپنے کے خلاف حیدرآبادمیںاجلاس کاانعقادکیاجس کی صدارت بورڈکے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری عبدالرحیم قریشی نے کی ۔پروگرام میں بورڈنے ملک کے انصاف پسندوں کوآوازدی کہ وہ سیکولرزم کی بقاء کے لئے متحدہوکرفرقہ پرستی کامقابلہ کریں اورنفرت کاجوزہرپھیلایاجارہاہے ،امن ،محبت اوربھائی چارگی کوعام کرکے اس کامقابلہ کریں۔ اجلاس کے بعدباضابطہ پریس کانفرنس کااہتمام کیاگیاجس میں بورڈکے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری عبدالرحیم قریشی ،کارگذارجنرل سکریٹری مولانامحمدولی رحمانی،سکریٹری مولاناخالدسیف اللہ رحمانی اوررکن عاملہ مولاناخلیل الرحمان سجادنعمانی نے میڈیاکے سوالوں کاجواب دیا۔حالانکہ رکن عاملہ اورممبرپارلیمنٹ اسدالدین اویسی بھی اس موقعہ پرموجودرہے لیکن انہوں نے میڈیاسے خطاب نہیں کیا۔عبدالرحیم قریشی نے صدارتی خطاب اورپریس کانفرنس میں کہاکہ اسلام کابنیاد ی عقیدہ ہے کہ چاندسورج وغیرہ سب مخلوقات ہیں اورمخلوقات کمزورہیں،خالق کی عبادت کے سوااورکسی کی عبادت اسلام میں جائزنہیں اورجوچیزیں اسلامی عقائدسے متصادم ہیں وہ ہرگزہم قبول نہیں کریں گے۔تحریک کی تفصیل اوراس کی ضرورت پرروشنی ڈالتے ہوئے بورڈکے اسسٹننٹ جنرل سکریٹری نے کہاکہ اس تحریک کی سخت ضرورت ہے،وقت کاتقاضہ ہے کہ ہم ان سازشوں کے خلاف رائے عامہ کوہموارکریں،اسی لئے تمام طبقات اوردیگرمذاہب کے نمائندوںکوساتھ لے کرہم آگے بڑھے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اہل ایمان کے لئے سب سے زیادہ اہم اوربیش قیمت چیزان کادین وایمان اورعقیدہ مذہب ہے جسے کسی بھی حالت میں کسی بھی قیمت پرچھوڑنے یااس کے کسی حصے سے دستبردار ہونے کاتصوران کے لئے ناممکن ہے،ملک کے موجودہ حالات کچھ ایسارخ اختیارکرچکے ہیں کہ مسلمان بجاطورپراپنے ایمانی وجوداوردینی تشخص کے لئے خطرہ محسوس کررہے ہیں اورایک خاص مذہب کی بالادستی اوراس کوپور ے ملک پرمسلط کیئے جانے کی کوششوں کی وجہ سے فکرمنداورمضطرب ہیں۔سرکاری اسکولوں کے نصاب میں بڑے پیمانہ پرتبدیلی اورمشرکانہ اعمال ورسوم کے ذریعہ ایک خاص مذہب کوملک پرتھوپنے کی کوشش ہورہی ہے۔اس کے علاوہ دوسری تدبیروں کے ذریعہ مسلمانوں کوقومی دھار ے میں ضم کرنے اوران کے علحیدہ دینی تشخص کوختم کرنے کی سازش بھی ہورہی ہے ،کئی اہم قوانین کوازکاررفتہ قراردے کرختم کردینے کی سفارشات بھی زیرغورہیں،ان میں سے وہ قوانین بھی ہیں جن سے مسلم پرسنل لاء متاثرہوگا۔بابری مسجدسے متعلق سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ سے متعلق انہوں نے کہاکہ جہاں تک ترپال کی تبدیلی کی اجازت کی بات ہے ،اس حدتک ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔لیکن سبرامنیم سوامی نے جورٹ داخل کی ہے بورڈاس کامخالف ہے۔اورمخالفت بھی درج کرائی گئی ہے۔بورڈکے کارگذارجنرل سکریٹری مولانامحمدولی رحمانی نے کہاکہ نصاب تعلیم میں ترمیم اورتبدیلی نہایت خطرناک منصوبہ کاحصہ ہے،تاریخ کومسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔کسی ایک مذہب کوملک پرتھوپنادستورکی بنیادی دفعات کے متصادم ہے۔یہ تحریک اسی پس منظرمیں چلائی جارہی ہے۔بورڈکے سکریٹری مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے تین طلاق کے مسئلہ پرایک سوال کے جواب میں بورڈکے موقف اورفقہی جزئیات پرروشنی ڈالی۔مولاناخلیل الرحمان سجادنعمانی نے پریس کانفرنس میںدین بچائو،دستوربچائوتحریک کی تفصیل بتاتے ہوئے کہاکہ اس میں تمام مکاتیب فکرکوشامل کیاگیاہے اوریہ تمام مظلوم طبقات کی آوازہے،یہ صرف مسلمانوں کامسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کامسئلہ ہے اسلئے ملک کے انصاف پسندوں کوہم آوازدیتے ہیں کہ وہ جمہوریت کی بقاکے لئے ہمارے ساتھ آئیں اورمل جل کرفرقہ پرستی کے خلاف لڑائی لڑیں۔ اس سوال پر کہ کیا بورڈ وزیراعظم سے نمائندگی کرے گا؟تومولانا خلیل الرحمن سجادنعمانی نے کہاکہ یہ ان کے ایجنڈہ میں نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ شرم کی بات ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ان کی کہنی اور کرنے میں بڑا فرق ہے ۔انہوں نے کہاکہ بورڈ کی تحریک ان کے عمل کے خلاف ہے نہ کہ ان کے بیانات کے خلاف ۔انہوں نے کہاکہ اقلیتوں کو ترقی کے معاملہ میں مذہبی او رسماجی شناخت سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ایک طرف آپ ترقی کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف آپ اقلیتوں کو ان کی مذہبی اور سماجی شناخت سے محروم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے قانون سازی کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے وزیراعظم کی آرایس ایس کے لیڈروں سے ہوئی ملاقات پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ یہ ہندوستان کی حکومت ہے نہ کہ ہندووں یا برہمنوں کی حکومت۔انہوں نے کہاکہ مسلمان اپنے عقیدے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ہندوستان سیکولر جمہوری ملک ہے اور دستور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے ۔مولانا خلیل الرحمن سجادنعمانی نے کہاکہ بعض طاقتیں بنیادی عقیدہ سے مسلمانوں کو بھٹکانا چاہتی ہیں۔انہوں نے اسکولوں اور کالجوں کے نصاب کے ساتھ ساتھ تعلیمی نظام میں ہوئی بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی مثالیں دیں ۔ مولانا خلیل الرحمن سجادنعمانی نے دعوی کیا کہ قانون میں ترمیم کی کوششیں کی جارہی ہیں جس سے مسلمانوں کے پرسنل لامتاثر ہوسکتے ہیں۔بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی نہ صرف مسلم طبقہ کے لیے خطرہ ہے بلکہ دیگر مذاہب ،کلچر اور سماجی گروپوں کے لیے بھی خطرہ ہے ۔فرقہ پرستی ترقی میں رکاوٹ ہے ۔بورڈنے اپنے اعلامیہ میں یہ بھی کہاکہ فرقہ پرستوں کے حوصلے دن بدن بڑھتے جارہے ہیں اوروہ اپنے خطرناک عزائم کوجلدازجلدپوراکرنے کی کوشش کررہے ہیں،اس سے تشویش میں اضافہ ہوتاجارہاہے ۔بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی صرف مسلمانوں کے لئے نقصان دہ نہیں ہے بلکہ دوسری مذہبی،تہذیبی اورسماجی اکائیاں بھی متاثرہیں۔یہ فرقہ پرستی ملک کی سالمیت اوراس کی تعمیروترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ایک بہت اہم مسئلہ بھارت کے دستورکی اہم بنیادوں ،آزادی،مساوات،انصاف اورباہمی اخوت وبھائی چارگی کی حفاظت کاہے،اب جوصورتحال بنائی جارہی ہے اس کے پیش نظریہ کہاجاسکتاہے کہ بھارت کے سیکولردستوراوراس کی اہم بنیادوں کوخطرہ لاحق ہے۔اسی لئے آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈنے موجودہ حالات کی سنگینی کومحسوس کرتے ہوئے اورمثبت ومنفی پہلوئوںکاجائزہ لینے کے بعددین ودستوربچائوتحریک شروع کی ہے جس کے بینرتلے پورے ملک میں رائے عامہ کی بیداری کاانشاء اللہ کام کیاجائے گا۔آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈنے اس تحریک میں مختلف مذہبی،تہذیبی اورسماجی اکائیوں اورمظلوم طبقات کوساتھ لینے اورایک دوسرے کے ساتھ اشتراک واتحادعمل کے ذریعہ دستورہندکے تحفظ کابیڑااٹھایاہے،اس سلسلہ میں دوسری اکائیوں سے بات چیت ہوچکی ہے اوراس کے بڑے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آرہے ہیں۔آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈمسلمانان ہندکومتوجہ کرتاہے کہ وہ حالات کی سنگینی کومحسوس کریں اوراپنے دین وایمان کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل ہوجائیں۔