جموں میں چسپاں کئے گئے دھمکی آمیز پوسٹرس ، پولیس نے بتایا شرپسند عناصر کی کرتوت

04:35PM Sun 29 Sep, 2019

جموں و کشمیر کے سرحدی پونچھ ضلع کے ایک قصبہ میں مقامی شہریوں کے معمولات کی سرگرمیاں شروع کرنے کے خلاف دھمکی آمیز پوسٹرز چسپاں کئے گئے ہیں ۔ یہ پوسٹرس ریاست کا خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے بعد لگائے گئے ہیں ۔ پولیس نے اس درمیان کچھ لوگوں کو پکڑا ہے اور ایسا مانا جارہا ہے کہ یہ گڑبڑی پھیلانے کی کوشش کرنے والوں کا کام ہے ۔ یہ پہلا موقع ہے جب جموں خطہ میں کسی دہشت گرد تنظیم کے ذریعہ اس طرح کے پوسٹرس لگائے گئے ہیں ۔ خیال رہے کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ آرٹیکل 370 کے التزامات کو ختم کئے جانے اور ریاست کی تقسیم کے اعلان کے بعد بھی یہاں کے حالات معمول کے مطابق تھے
افسران کے مطابق یہ پوسٹرس اردو میں لکھا گیا ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ پوسٹرس البدر مجاہدین کی طرف سے لگائے گئے ہیں ۔ یہ پوسٹرس ہفتہ کو مینڈھر میں کچھ مقامات پر چسپاں نظر آئے ۔ انہیں فوری طور پر ہٹا دیا گیا ۔ ان پوسٹروں میں دکانداروں ، ملازمین ، ٹرانسپورٹروں اور پٹرول پمپ مالکان کو اپنی سرگرمیاں جاری نہیں رکھنے کی وارننگ دی گئی ہے ۔ پونچھ کے سینئر پولیس افسر رمیش اگروال نے پی ٹی آئی – بھاشا کو بتایا کہ ہم نے پوسٹروں پر نوٹس لیا ہے اور دو تین لوگوں کو پوچھ گچھ کیلئے پکڑا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں کسی دہشت گرد تنظیم کی موجودگی نہیں ہے اور تقریبا ایک دہائی پہلے اس کو دہشت گردی سے پاک کردیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹر چسپاں کرنے کا یہ کام شرپسند عناصر کا کام ہوسکتا ہے۔