اسلامی تعلیمات بنی نوع انسانوں کی مکمل رہنمائی کرتی ہے تبدیلی یا مداخلت کی کوئی گنجائیش نہیں
04:19PM Wed 26 Apr, 2017
نظام آباد۔ (بھٹکلیس نیوز)مسلم پرسنل لاء کمیٹی کی جانب سے ملک بھر میں شعور بیداری پروگرام کا آغاز کیا جارہا ہے تاکہ ابنائے وطن میں مسلمانوں سے متعلق جو بیچنی پھیلی ہوئی ہے ان شکوک و شبہات کو دو ر کیا جائے اسی ضمن میں ضلع نظام آباد میں گھر گھر پہنچ کر مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات سے متعلق شعو بیدا کیا جارہا ہے ان خیالات کا اظہار محترمہ سالحہ پروین صدر شعبہ خواتین ضلع نظام آباد جماعت اسلامی ہندنے نظام آباد پریس کلب میں منعقد صحافتی اجتماع سے مخاطب کرتے ہوئے کیا انہو ں نے کہا کہ اسلامی تعلیامات تمام انسانوں کیلئے رہنمائی کاذریعہ ہے اسلام زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی کرتا ہے اور اس کے ماننے والوں کے لیے زندگی گزارنے کے قوانین عطاء کرتا ہے مثلاً ان میں شہریوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی سے متعلق ازدواجی زندگی اور معاشرت و وراثت سے متعلق، تجارت و معنمالات اور اسیاست سے متعلق غر ض یہ زندگی تمام شعبہ حیات میں واضح رہنمائی کرتا ہے اسلامی تعلیمات قرآن احادیث کی روشنی میں وہ حصہ ہیں جس میں انسانی زندگی سے متلق مکمل ہدایت دی گئی ہیں اور خاندان کے مختلف افراد کے حقوق اور ذمہ داریوں کا خیال رکھی ہے کسی بھی فرد کے ساتھ نا انصافی نہیں کی گئی ہے ۔اردو میں اسکو مسلم قوانین اور انگریزی میں مسلم پرسنل لاء کہا جاتا ہے ۔آجکل ملک میں عائیل قوانین سے متعلق تین طلاق سے متعلق بحث چھڑی ہوئی ہے۔ اسلام میں طلاق کے اصول ہیں ان اصولوں کے تحت ہی طلاق کے مسئلہ کو حل کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ اسلام میں طلاق ایک علاج ہے نہ کہ زحمت جو آخری حد ہے ۔ نکاح اور طلاق سے پہلے عوام میں شعور بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ معاشرہ میں عدم واقفیت کے سبب اغیار کو انگشت نمائی کا سبب بنے ہوئے ہیں کیونکہ بہت سے افراد عائیلی قوانین سے نا واقفیت کے سبب طلاق کے مسئلہ میں الھجے ہوئے ہیں اور اسلام پر انگشت نمائی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں، اس سلسلہ میں مسلم پرسنل بورڈ اسلامی تعلیمات سے متعلق شعور بیدار کرنے کی غرض سے اس مہم کو شروع کیا ہے تاکہ نکاح اور طلاق ،خاندانی تنازعات سے متعلق شعور بیدار کر سکے۔اس موقع پر انہو ں کہا کہ یکساں سول کوڈ کسی طرح ہمیں منظور نہیں ، اور ہم بحیثیت مسلمان مسلم پرسنل میں مداخلت کو برداشت نہیں کرینگے۔کیونکہ قرآن ایک ظابطہ حیات ہے ان ہی تعلیمات کے ذریعہ بہتر اور صالح معاشرہ کی تشکیل ہو سکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ھیکہ بحیثیت مسلمان ہمیں اسلامی تعلیمات سے متعلق تفصیلات حاصل کریں اس پر سختی کے ساتھ عمل کریں اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزاریں اور ابنائے وطن کو بھی اسلامی تعلیمات سے واقف کروائیں یہ ہم پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، نکاح کو آسان بنائیں،انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک دستور میں ہمیں یہ حق دیا کہ ہندوستان میں جتنے بھی مذاہب کے لوگو آباد وہ اپنے اپنے مذہب پر رہکر زندگی گزار سکتے ہیں اس آزادی کو کوئی بھی چھین نہیں سکتا ۔اس ملک میں بنیادی حقوق کے تحت تمام شہریوں کی لئے عقیدہ و ضمیر اور مذہب کے ماننے والوں کے لیے اپنے اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی دستور کے آرٹیکل میں دی گئی ہے۔مسلم پرسنل لاء بورڈ اس موقع پر امت مسلمہ کے تمام افراد سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے آپس کے فروعی مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے ملت کے وسیع مفاد میں اس اہم مہم کا حصہ بنیں اور حکومت تک یہ پیغام کو پہنچائیں کہ مسلمان ہند اپنی شریعت میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو برداشت نہیں کریگا۔ اور نہ ہی اس میں تبدیلی کی کوئی گنجائیش ہے اس مسئلہ میں خواتین کی تنظیم نے متحدہ طور پر جدوجہد کرنے مسلمانان ہند سے اپیل کی ہے۔ اپنے عائیلی اور شرعی معمالات کو پولیس میں جانے کے بجاءئے شرعی پنچائیتوں سے رجوع ہوتے ہوئے حل کروائیں ۔صالح معاشرہ کی تشکیل کیلئے اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی تقلین کی گئی۔ اس موقع پر شعبہ خواتین سے وابسطہ خواتین نے اس موقع پر شرکت کی۔اس پریس کانفرنس کا اہتمام جماعت اسلامی ہند کے ذمہ دار شیخ حسین کی نگرانی میں انجام دیا گیا ۔