ڈاکٹر شکیل صمدانی سے بھٹکلیس کی خصوصی ملاقات
11:02AM Fri 11 Aug, 2017
رابطہ سوسائٹی کے تعلیمی ایوارڈ کے پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کرنے کے لئے آئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ قانون کےسنیئر پروفیسر اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن ڈاکٹر شکیل صمدانی صاحب سے بھٹکلیس کی ٹیم نے صدر بھٹکلیس ڈاٹ کام جناب محسن صاحب شابندری کے گھر خصوصی ملاقات کی اور ان سے مختلف سوالات کئے جس کا خلاصہ یہاں پیش کیا جارہا ہے۔
ڈاکٹر شکیل صمدانی نے اپنے تعارف کے بعد اردو کے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اردو کا مستقبل نارتھ میں مایوس کن ہے لیکن ساؤتھ کے علاقوں خاص کر ممبئی ، حیدر آباد، مالیگاؤں اور بھٹکل کے لوگوں کی اردو اچھی ہے اور میں خود ان سے متاثر ہوں، انہوں نے اردو کی بقاء کے لئے عوام سے اردو کے اخبارات خریدنے کی گزارش کی اور اسے پڑھنے کی عادت ڈالنے پر زور دیا۔ انہوں نے مسلمانوں کی موجودہ تعلیمی صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات اطمنان بخش نہیں ہیں، اگر سچر کمیٹی کی رپورٹ کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کا تعلیمی تناسب کیا ہے لیکن ابھی چند سالوں سے نارتھ میں بھی ساؤتھ سے متاثر ہوکر تعلیمی رجحان بڑھتا جا رہا ہے لیکن بچوں کے مقابلہ میں بچیوں میں تعلیم کا شوق بڑھتا جارہا ہے جو ایک خوش آئند پہلو ہے، انہوں نے قانون کی تعلیم کو نہایت ہی اہم اور ضروری قرار دیا اور کہا کہ موجودہ دور میں اچھے وکلاء اور ججس کی کمی ہے اس لئے انہوں نے نوجوانوں سے ان شعبوں میں جانے کی درخواست کی۔ انہوں نے ملک کی سیاسی صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ ملک کی حکومتوں نے گزشتہ چالیس سالوں میں فرقہ وارانہ حالات کو مٹانے کی مضبوط کوشش نہیں کی جس کے بعد ایسی پارٹی اپنے نظریات کو نافذ کرنے میں کامیاب ہوگئی جن کو مسلمانوں سے عناد ہے۔ انہوں نے مسلمان ہونے کی بناء پر حالات سے نہ ڈرنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کو قانون پر اور دستور پر بھروسہ رکھنا چاہئے، اس میں ہمیں جو آزادی ملی ہوئی ہے اس کا صحیح استعمال کرنا چاہئے۔ موصوف نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آج کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم سیاسی طور پر مضبوط نہیں ہیں سب سے پہلے ہمیں سیاسی طور پر مضبوط ہونا پڑے گا اور اس کے لئے سیاسی ذہن بھی تیار کرنا ہوگا جس کے لئے تعلیم کا ہونا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے ملک کے حالات کو سدھارنے کے لئے غیر مسلموں کے درمیان پیدا غلط فہمیوں کو دور کرنے کی گزارش کی اور ساتھ ہی ساتھ موصوف نے میڈیا اور لاء کالج کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
جناب شکیل صاحب نے اس موقع پر حاضرین کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کے تفصیل کے ساتھ جوابات دئے ۔ اس موقع پر جناب محسن شابندری صاحب، جناب جیلانی شابندری صاحب، جناب عبدالرحمٰن صدیقی صاحب، جناب محی الدین رکن الدین صاحب، جناب طاہر صاحب ،اسحاق شابندری صاحب، جناب مولانا الیاس جاکٹی ندوی صاحب، مولوی عبداللہ دامدا صاحب، جناب رضوان گنگاولی صاحب اور دیگر حضرات موجود تھے۔
اس انٹریو کی مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی لنک پر کلک کریں۔
https://www.facebook.com/bhatkallys/videos/1877581905590938/