Iran May Join ‘Islamic NATO’ As Saudi Arabia, Pakistan & Türkiye Eye Expansion

09:10PM Sun 23 Aug, 2026

تہران: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بننے والے ’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ کو لے کر ایک ایسا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس نے پورے حالات کو دلچسپ بنا دیا ہے۔ دعویٰ ہے کہ اب ایران کو بھی مبینہ ’اسلامک نیٹو‘ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی خانہ ملت کے سربراہ مہدی رحیمی نے کہا ہے کہ تہران کو تجویز ملی ہے اور اس پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اس خبر کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ یا اعلیٰ قیادت نے اس مبینہ دعوت پر عوامی طور پر کچھ نہیں کہا ہے۔ وہیں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے بھی اس کی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

تاہم جیسے ہی ایران کے ممکنہ طور پر شامل ہونے کی خبر سامنے آئی، سوشل میڈیا پر لوگوں نے اسے لے کر طرح طرح کے سوال پوچھنے شروع کر دیے۔ ایک صارف نے طنز کرتے ہوئے پوچھا کہ جس ملک کے خلاف دفاع کے لیے اتحاد بنایا گیا ہے، اسی ملک کو اب اس میں شامل ہونے کی دعوت کیسے دی جا رہی ہے؟ ایک دیگر صارف نے سوال کیا کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو کیا اس معاہدے میں شامل باقی ممالک امریکہ کے خلاف میدان میں اتریں گے؟ سوشل میڈیا پر ایک دیگر صارف نے مذاق میں کہا کہ ایران کے بغیر یہ پورا اتحاد ہی نامکمل ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایران اس میں شامل ہو جاتا ہے تو اس کا اصل مقصد کیا رہ جائے گا۔

مکہ معاہدے میں کیا ہے؟
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کو مغربی ایشیا میں ایک نئے دفاعی منظرنامے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے تحت تینوں ممالک کے درمیان سیکورٹی اور باہمی دفاعی تعاون کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔ یہ سنی اکثریتی ممالک کی تنظیم ہے، جسے عام طور پر ایران کے خلاف دیکھا جاتا ہے۔ وہیں اسی وجہ سے اسے کئی جگہوں پر ’اسلامک نیٹو‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر ایران کے شامل ہونے کی خبر درست ثابت ہوتی ہے، تو یہ اس اتحاد کے پورے اسٹریٹجک منظرنامے کو بدل سکتی ہے۔ لیکن ابھی یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ایران کو دعوت ملنے کا دعویٰ صرف مہدی رحیمی کے بیان پر مبنی ہے اور اس کی آزادانہ سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ وہیں دوسری طرف بنگلہ دیش کی بھی نظر اسلامک نیٹو میں شامل ہونے پر ہے۔

کیا بنگلہ دیش اسلامک نیٹو میں شامل ہوگا؟
بنگلہ دیش کے دو وزرا نے کہا کہ ان کا ملک حال ہی میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بننے والے دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے، لیکن اس سلسلے میں کوئی بھی فیصلہ قومی مفادات کو مدنظر رکھ کر ہی لیا جائے گا۔ وزیر مملکت برائے امور خارجہ ہمایوں کبیر نے کہا کہ ’بنگلہ دیش اپنے مفادات اور عالمی معیشت و تجارت میں بدلتے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ سے جڑے کسی اقتصادی یا دفاعی ڈھانچے میں شامل ہونے کے امکان کے تئیں مثبت رویہ رکھتا ہے۔‘

کبیر نے جمعہ کو سرکاری خبر رساں ایجنسی ’BSS‘ کی بنگلہ سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ حکومت ’بنگلہ دیش فرسٹ‘ پالیسی اور متوازن خارجہ پالیسی پر آگے بڑھ رہی ہے، جس میں قومی مفادات کو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔