سپریم کورٹ کا مختلف ہائی کورٹ میں نوٹ بندی کارروائی پر روک سے انکار
03:53PM Wed 23 Nov, 2016
نئی دہلی،(ایف او یس)
سپریم کورٹ نے ملک کے مختلف ہائی کورٹ میں نوٹ بندی کے سلسلے میں زیر التوا کارروائی پر اسٹے جاری کرنے کی مرکز کی اپیل کو آج یہ کہتے ہوئے نامنظور کر دیا کہ ہو سکتا ہے کہ عوام ان سے فوری راحت چاہتی ہو۔اس کے ساتھ ہی عدالت نے نوٹ بندی کو چیلنج دیتے ہوئے ملک کے مختلف ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے والے درخواست گزاروں سے اس سلسلے میں درج مرکز کی درخواست پر جواب مانگا۔مرکز کی درخواست میں ایسے تمام معاملات کو عدالت عظمی یا کسی ایک ہائی کورٹ میں منتقل کئے جانے کی اپیل کی گئی تھی۔چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی قیادت والی تین رکنی بنچ نے کہا کہ ہم اسے روکنا نہیں چاہتے،مختلف مسائل ہیں،لوگوں کو اعلیٰ عدالتوں سے فوری امداد مل سکتی ہے۔بنچ کے دیگر ججوں ڈی وائی چندرچوڑ اور ایل ناگیشور راؤ نے اٹارنی جنرل مکل روہتگی سے یہ بات کہی۔سماعت کے دوران بنچ نے اے جی سے کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ آپ نے ضرور کچھ مناسب اقدامات اٹھائے ہوں گے،اب کیا صورتحال ہے؟ ۔اگرآپ نے ابھی تک کتنی رقم جمع کی ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے اے جی نے کہا کہ صورت حال کافی بہترہے اور نوٹ بندی کے بعد سے چھ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم اب تک بینکوں میں جمع ہوئی ہے۔اے جی نے کہا کہ ابھی تک 6لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم جمع ہوئی ہے۔دولت کے ڈیجیٹل لین دین میں کافی اچھال آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کا فیصلہ 70سالوں سے جمع کالادھن کو ہٹانے کے مقصد سے لیا گیا اور حکومت حالات کی ہر روز اور ہر گھنٹے نگرانی کر رہی ہے۔