India Monsoon Fury: Assam Worst-Hit; Floods Hit Gujarat, J&K, and Maharashtra
08:03PM Sun 2 Aug, 2026
ہندوستان میں اس بار مانسون کا مزاج مسلسل حیران کر رہا ہے۔ مغرب میں گجرات، شمال مشرق میں آسام اور جنوب میں کیرالہ تک شدید بارش نے عام زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کئی ریاستوں میں ندیاں طغیانی پر ہیں، سڑکیں اور پل زیرِ آب آ گئے ہیں، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ آسام میں اب تک 82 افراد کی موت ہو چکی ہے، تقریباً 2 لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہیں۔ جبکہ کیرالہ میں بھی 8 افراد کی موت ہو چکی ہے اور ہزاروں لوگ متاثر ہیں۔ گجرات میں تقریباً 40 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب ال نینو (El Nino) کی صورتحال موجود ہے، تو آخر اتنی موسلا دھار بارش کیوں ہو رہی ہے؟
ال نینو کیا ہے؟
ال نینو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے میں سمندر کی سطح کے معمول سے زیادہ گرم ہو جانے کی صورتحال ہے۔ اس سے دنیا کے کئی ممالک کے موسمی چکر میں تبدیلی آتی ہے۔ ہندوستان میں عام طور پر ال نینو کا تعلق کمزور جنوب مغربی مانسون اور کم بارش سے جوڑا جاتا ہے۔ تاہم یہ ہر بار ایک جیسا اثر نہیں دکھاتا۔ ماہرین کے مطابق ال نینو مانسون کو متاثر کرنے والا ایک اہم عنصر ہے، لیکن صرف یہی یہ طے نہیں کرتا کہ پورے ملک میں کتنی بارش ہوگی۔ ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس کا جواب صرف ال نینو میں نہیں، بلکہ کئی عالمی اور علاقائی موسمی اثرات میں بھی پوشیدہ ہے۔
پھر اس بار اتنی بارش کیوں ہو رہی ہے؟
اس بار خلیجِ بنگال اور بحیرۂ عرب دونوں میں بار بار لو پریشر ایریا (Low Pressure Area) بن رہے ہیں۔ یہ سمندر سے بھاری مقدار میں نمی لے کر ملک کے اندر پہنچ رہے ہیں۔ جب یہ مانسونی ٹرف (Monsoon Trough) کے ساتھ ملتے ہیں تو کئی ریاستوں میں مسلسل شدید بارش ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس وقت مانسونی ٹرف بھی طویل عرصے تک فعال بنا ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک ہی علاقے میں کئی دنوں تک مسلسل بارش ہو رہی ہے، جس سے سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔
ماہرینِ موسمیات بتاتے ہیں کہ اس بار بحرِ ہند کا درجۂ حرارت معمول سے زیادہ ہے۔ گرم سمندر زیادہ آبی بخارات خارج کرتا ہے، جس سے فضا میں نمی بڑھ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی MJO بھی فعال ہے۔ یہ ایک عالمی موسمی نظام ہے جو بادلوں اور بارش کی سرگرمی کو تیز کر سکتا ہے۔ جب MJO، فعال مانسونی ٹرف اور لو پریشر سسٹم ایک ساتھ کام کرتے ہیں تو غیر معمولی بارش کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
انڈین اوشن ڈائپول (IOD) نے بھی ال نینو کا اثر کم کیا
ماہرین کے مطابق IOD کی موافق صورتحال نے بھی اس بار اہم کردار ادا کیا ہے۔ مثبت IOD ہندوستان کی جانب زیادہ نمی پہنچانے میں مدد کرتا ہے۔ اس سے کئی بار ال نینو کے منفی اثرات کافی حد تک کمزور پڑ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ال نینو موجود ہونے کے باوجود ہندوستان کے کئی حصوں میں معمول سے زیادہ بارش دیکھنے کو مل رہی ہے۔
گجرات، آسام اور کیرالہ میں تباہی کیوں آئی؟
گجرات میں مسلسل بارش کے باعث کئی ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے اور سیلاب جیسی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ آسام میں برہم پتر اور اس کی معاون ندیوں کی سطحِ آب تیزی سے بڑھنے کے باعث کئی اضلاع میں سیلاب کا بحران گہرا ہو گیا ہے۔ جبکہ کیرالہ میں مغربی گھاٹ کے علاقوں میں شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ نے لوگوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں فعال مانسونی نظام ایک ساتھ کام کر رہے ہیں، اسی لیے ملک کے مختلف حصوں میں ایک ہی وقت میں شدید بارش دیکھنے کو مل رہی ہے۔
کیا موسمیاتی تبدیلی بھی ذمہ دار ہے؟
سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے موسمی واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ زمین کا اوسط درجۂ حرارت بڑھنے سے فضا پہلے کے مقابلے میں زیادہ نمی روک سکتی ہے۔ جب یہ نمی بارش کی صورت میں گرتی ہے تو کم وقت میں بہت زیادہ بارش ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب طویل عرصے تک ہلکی بارش کی بجائے چند گھنٹوں میں ہی کئی دنوں کے برابر بارش ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ بادل پھٹنے، فلیش فلڈ اور شہری سیلاب جیسے واقعات کو بھی اسی تبدیلی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
آگے موسم کیسا رہے گا؟
محکمۂ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں بھی کئی ریاستوں میں مانسون فعال رہے گا۔ وسطی ہندوستان، مغربی ہندوستان، شمال مشرقی علاقوں اور مغربی ساحلی ریاستوں میں شدید سے انتہائی شدید بارش کا امکان برقرار ہے۔ جن علاقوں میں پہلے سے پانی جمع ہے، وہاں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار رہ سکتا ہے۔ لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ محکمۂ موسمیات کی وارننگز پر نظر رکھیں اور شدید بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔