محبت کی یادگار کے کیڑے دشمن

06:15PM Mon 23 May, 2016

اس کی چمکتی ہوئی سفید دیواروں کو انڈیا میں بڑھتی ہوئی آلودگی نے برسوں پہلے سے پیلا کرنا شروع کر دیا تھا لیکن اب دنیا کے عجوبوں میں سے ایک تاج محل کو کیڑے مکوڑوں کے سبز فضلے سے بھی خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکام نے 17 ویں صدی کی اس پیار کی یادگار کی عقبی دیوار پر سبز رنگ کے نشانات کے بعد تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ تاج محل دریائے جمنا کے کنارے واقع ہے جو کہ انتہائی آلودہ دریا ہے۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے بھون وکرم نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دیواروں کو روزانہ صاف کیا جاتا ہے لیکن تواتر سے رگڑ کر صاف کرنے سے پھولوں کی پچی کاری اور چمکیلے سنگِ مرمر کے سطح کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ 151201074820_taj_mahal_640x360_gettyimages_nocredit حکام مچھر کی قسم کے اس کیڑے سے تاج محل کو پہنچنے والے نقصان کا مستقل حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کیڑے دریائے جمنا میں پنپتے ہیں۔ ماحولیات کے ماہر یوگیش شرما کے مطابق دریائے جمنا کا پانی اب بہنے سے رک گیا ہے کہ اب اس میں وہ مچھلیاں بھی نہیں رہیں جو کبھی ان کیڑے مکوڑوں کی نسل کو محدود رکھتی تھیں۔ آگرہ کے سینٹ جانز کالج کے حشریات کے شعبے کی سربراہ گریش مہیشوری کے مطابق مچھلیوں کے علاوہ دریا کے کنارے الجی کی بہت مقدار میں پیدوار اور قریبی شمشان گھاٹ میں مردے جلانے کے بعد فاسفورس کی راکھ بھی ان کیڑے مکوڑوں کی خوراک کا بنیادی ذریعہ ہے۔ تاج محل انڈیا کا ایک مشہور سیاحتی مقام ہے جہاں ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ ماہرِ آثار قدیمہ کی بھرپور کوششوں کے باوجود اس تاریخی عمارت کا سفید سنگِ مرمر پیلا اور بورا ہوتا جا رہا ہے۔ اتر بردیش کی ریاست کے ترجمان نونیت سنگھ کہتے ہیں کہ حکام کو کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کا کھوج لگائیں کہ کیوں ایک دم ان کیڑوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور کیسے ان کی آبادی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ مغل بادشاہ شاہ جہاں نے 1632 اور 1654 کے درمیان اپنی پسندیدہ بیوی ممتاز محل کے لیے تاج محل بنوایا تھا۔ اس میں ان دونوں کی قبریں اور ایک مسجد بھی ہے۔ BBCURDU