سخت دھوپ کی وجہ سے رمضان بازار میں لوگوں کی قلت؛ دکاندار پریشان
01:02PM Sat 1 Jun, 2019
بھٹکل : یکم جون ، 2019 (بھٹکلیس نیوز بیورو) عیدالفطر کے لئے مشکل سے ابھی تین دن باقی رہ گئے ہیں لیکن بھٹکل میں دن کے اوقات میں گرمی کی شدت ہونے کے سبب سابقہ سالوں کی طرح کا ہجوم نظر نہیں آرہی ہے جس کی وجہ سے دکانداروں کے چہروں سے بھی مسکراہٹ غائب ہوتی نظر آرہی ہے۔
گراہگ نہ ہونے کے سبب دکاندار بھی کافی ناخوش نظر آرہے ہیں۔ لیکن بعض دکانداروں کا کہنا تھا کہ دن کے اوقات میں حلانکہ دھوپ کی وجہ سے گراہک کافی کم ہوتے ہیں لیکن رات کے اوقات میں ایک حد تک اس کی بھرپائی ہوجاتی ہے۔
ہندو مسلم اتحاد کی مثال پیش کرنے والا بھٹکل کا یہ رمضان بازار بھٹکل اولڈ بس اسٹائنڈ سے شروع ہورہا ہے اور پورے مین روڈ پر ماری کٹہ تک پھیلا ہوا ہے۔اس رمضان بازار میں ریڈی میڈ ملبوسات، جوتے، چپل ، بیگس، نقلی زیورات سمیت پلاسٹک اور اسٹیل کے برتن، بچوں کے کھلونے، گھروں میں استعمال ہونے والے کارپیٹ اور ہر وہ چیز دستیاب ہے جو گھریلو اور روز مرہ کی ضروریات میں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ہر سال رمضان کے آخری دنوں میں اس رمضان بازار میں لوگوں کی ریل پیل اتنی بڑھ جاتی ہے کہ پیر رکھنے کے لئے جگہ نہیں رہتی ہے۔ یہاں نہ صرف مسلمان اپنی عید کی خریداری کرتے ہیں بلکہ غیر مسلم لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد اس بازار کا رخ کرتی ہے ایسے میں دونوں فرقوں کے لوگ مل جل کر یہاں خریداری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔یہاں بھٹکل کے ساتھ ساتھ پڑوسی علاقوں منکی، مرڈیشور، ہوناور، کمٹہ، انکولہ، کاروار، اُڈپی، کنداپور، گنگولی ، بیندور،شیرور وغیرہ سے بھی لوگ کثیر تعداد میں آتے ہیں اور اپنی اپنی خریداری کرتے ہیں۔
رمضان باکڑہ کے پیش نظر پولس کا بھی کافی بند و بست کیا گیا ہے ۔
واضح رہے کہ ہر سال رمضان کے آخری دنوں میں اس رمضان بازار میں لوگوں کی ریل پیل اتنی بڑھ جاتی ہے کہ پیر رکھنے کے لئے جگہ نہیں رہتی ہے۔ یہاں نہ صرف مسلمان اپنی عید کی خریداری کرتے ہیں بلکہ غیر مسلم لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد اس بازار کا رخ کرتی ہے ایسے میں دونوں فرقوں کے لوگ مل جل کر یہاں خریداری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔یہاں بھٹکل کے ساتھ ساتھ پڑوسی علاقوں منکی، مرڈیشور، ہوناور، کمٹہ، انکولہ، کاروار، اُڈپی، کنداپور، گنگولی ، بیندور،شیرور وغیرہ سے بھی لوگ کثیر تعداد میں آتے ہیں اور اپنی اپنی خریداری کرتے ہیں۔
رمضان باکڑہ کے پیش نظر پولس کا بھی کافی بند و بست کیا گیا ہے ۔