آدھی مشین اورآدھی جاندار؛ دنیا کی پہلی ’’سائبورگ مچھلی‘‘ تیار
01:01PM Sun 10 Jul, 2016
میساچیوسیٹس: ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے 16 ملی میٹر لمبی، ایسی سائبورگ مچھلی تیارکرلی ہے جس میں چوہے کے دل سے لیے گئے جینیاتی ترمیم شدہ خلیات پیوند کیے گئے ہیں۔
اس مچھلی کا پتلا اورلچک دار ڈھانچہ سونے سے بنا ہے اور پانی میں حرکت اور رہنمائی کے لیے اس کے جسم میں چوہے کے دل سے حاصل کردہ ایسے جینیاتی ترمیم شدہ خلیات پیوند کیے گئے ہیں جو نیلی روشنی کے جھماکے پڑنے پر سکڑتے ہیں۔ اس مچھلی کو ’’روبو رے‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں حالیہ تجربات کے دوران اس روبوٹ مچھلی نے 3.2 ملی میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے پانی میں تیرنے کا مظاہرہ کیا۔ اس میں پیوند، چوہے کے دل سے لیے گئے جاندار خلیات نے اس دوران بڑی کامیابی سے اس ’’سائبورگ مچھلی‘‘ کو نہ صرف حرکت کے لیے توانائی فراہم کی بلکہ درست سمت میں اس کی رہنمائی بھی کی۔ اپنے ان ہی خلیات سے توانائی اور رہنمائی لیتے ہوئے اس مچھلی نے پانی میں موجود ایسی رکاوٹ بھی عبور کی جس کی جسامت اس سے 15 گنا زیادہ تھی۔
یہ ننھی سی ’’روبو رے‘‘ صرف 10 گرام وزنی ہے، اس کا پتلا اور نیم شفاف جسم پولیمر سے بنایا گیا ہے جب کہ سونے کا باریک ڈھانچہ اسی پر نقش (پرنٹ) کیا گیا ہے۔ اس کے اوپر چوہے کے دل سے لیے گئے (جینیاتی ترمیم شدہ) 2 لاکھ خلیات کی ایک پرت ہے جو نیلی روشنی پڑنے پر سکڑتے ہیں اور روشنی ختم ہوتے ہی پھیل جاتے ہیں، یوں یہ روبو رے کو حرکت دیتے ہیں۔
خلیوں کو خود بھی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے ’’روبورے‘‘ کو نیم گرم پانی کے جس ٹینک میں رکھا گیا، اس میں نمک اورگلوکوز بھی ملائے گئے تھے۔ روبوٹ مچھلی کو جس سمت بھی موڑنا ہوتا ہے، اس کے جسم پر اسی طرف تیز نیلی روشنی (صرف چند سیکنڈوں کے لیے) ڈالی جاتی ہے۔
ماہرین اس کامیابی سے بہت خوش ہیں کیونکہ یہ روبوٹ مچھلی نئی قسم کے مصنوعی جانداروں کے علاوہ ایسے جسمانی اعضاء کی تیاری میں بھی ایک سنگِ میل ثابت ہوگی جن میں مشینی آلات اور جاندار بافتیں (living tissues) ایک دوسرے کے ساتھ پیوند ہوں گی۔