جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے وکلاء کی کامیاب پیری کے نتیجے میں ارناکلم کی عدالت پہلے ہی ضمانت پر رہا کرچکی ہے

03:41PM Mon 6 Mar, 2017

ممبئی۔(بھٹکلیس نیوز) داعش سے رابطے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے الزام میں کیرالا پولیس کے ذریعے گرفتار عرشی قریشی اور رضوان خان کوآج یہاں کی خصوصی این آئی اے عدالت ۱۵؍ہزار کے ذاتی مچلکے اور ایک ضامن فراہم کرنے پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت کی جانب سے طئے کردہ زرِ ضمانت جمعیۃ علماء مہاراشٹر نے عدالت میں جمع کرادی ہے ، جس کے بعد جلد ہی اس کی تلوجہ سینٹرل جیل سے رہائی ہوجائے گی۔ اس بات کی اطلاع جمعیۃ علماء مہاراشٹرلیگل سیل کے سکریٹری ایڈووکیٹ تہورخان پٹھا ن نے دی ہے جو اس مقدمے کی قانونی پیروی کررہے ہیں۔انکے کے مطابق چونکہ یو اے پی اے کے تحت درج مقدمات میں ضمانت بہت مشکل ہوتی ہے اور خاص طور سے ایسے معاملے میں جن میں دہشت گردی کو شامل کرلیا گیا ہو، ضمانت اور بھی مشکل ہوجاتی ہے۔ یو اے پی اے کے معاملات میں ضمانت اسی وقت ممکن ہوسکتی ہے جب ملزم تفتیش میں بے قصور ثابت ہوجائے یا پھر ملزم کے خلاف داخل کی جانے والی چارج شیٹ معینہ مدت میں نہ داخل کی گئی ہو۔ عرشی قریشی کے معاملے میں تو این آئی اے نے مقررہ مدت سے قبل ہی چارج شیٹ داخل کردی تھی، مگر رضوان خان کے معاملے میں مقررہ وقت جو ۱۸۰؍ دن پر مشتمل ہوتا ہے، چارج شیٹ داخل نہیں کرسکی، جس کی بنیاد پر ہم نے ممبئی کی خصوصی این آئی اے کی عدالت میں ملزم کو ضمانت پررہا کئے جانے کی درخواست داخل کی تھی جس کی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم رضوان خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔اب اس کے بعد ہم عرشی قریشی کی ضمانت کے لئے بھی متعلقہ عدالت میں درخواست داخل کریں گے اور ہمیں امید ہے کہ عدالت اسے بھی ضمانت پر رہا کردے گی۔ واضح رہے رضوان خان اور عرشی قریشی کو داعش سے رابطے، مسلم نوجوانوں کو داعش سے جوڑنے اور دیگر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں کیرالا پولیس نے گرفتار کیا تھا ، یہ گرفتاری ۱۹؍ جولائی ۲۰۱۶ کو ہوئی تھی جس کی خبر میڈیا اور دیگر ذرائع سے منظر عام پر آ چکی تھی، لیکن کیرالا پولس اور مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ان کی گرفتاری ۲۳؍ جولائی ۲۰۱۶ کو دکھائی ۔ اس کے بعد انہیں الزامات پر مشتمل ایک اور ایف آئی آر ممبئی کے ناگپاڑہ پولیس اسٹیشن میں درج ہوئی تھی، جس کے بعد ناگپاڑہ پولیس نے ۲۹؍اگست ۲۰۱۶ کو ان ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ۔ ناگپاڑہ پولیس اسٹیشن میں ان ملزمین کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے بعد پہلے اس معاملے کی تفتیش ناگپاڑہ پولیس کرتی رہی، بعد میں یہ ڈی سی بی سی آئی ڈی کے سپرد ہوا، اس کے بعد یہ این آئی اے کے حوالے کردیا گیا۔ ان ملزمین پر تعزیراتِ ہند کی دیگر دفعات کے ساتھ یو اے پی اے کے تحت بھی معاملہ درج کیا گیا اور ان پر الزام عائد کیا گیا انہوں نے ناگپاڑہ علاقے کے رہنے والے ایک نوجوان کو ورغلا کر داعش میں شامل ہونے کے لئے رضامند کیا تھا۔ مذکورہ ایف آئی آر اس نوجوان کے والد کی جانب سے درج کرائی گئی تھی۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ رضوان خان اور عرشی قریشی کو ارناکلم کی عدالت ضمانت پررہا کرچکی ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کیرالا پولیس کے ہی ذریعے ہوئی تھی ۔ ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان کے مطابق اس معاملے میں عرشی قریشی کی بھی ضمانت کی کوششیں جاری ہیں اور بہت جلد کچھ قانونی نکات وواقعاتی شہادت پرمبنی درخواست عدالت میں پیش کرنے والے ہیں، ہمیں امید ہے کہ اس پر غور کرنے کے بعد عدالت عرشی قریشی کو بھی ضمانت پر رہا کردے گی۔ رضوان خان کی درخواستِ ضمانت کے تعلق سے ہمیں قوی امید تھی کہ عدالت ضمانت کا فیصلہ صادر کرے گی کیونکہ اس مقدمے میں کئی قانونی عمل ایسے تھے جس کی پولیس وتفتیشی ایجنسیوں نے نظر انداز کیا تھا۔ اس کے علاوہ رضوان خان کی چارج شیٹ معینہ مدت میں پیش نہیں کی گئی تھی، جس کی بنیاد پر عدالت نے ہماری درخواست کو پر غور کیا اور ضمانت کا حکم دیا۔ ہمارے وکلاء ساتھی دن رات مقدمے اور پولیس کی جانب سے عدالت میں پیش کردہ چارج شیٹ پر غور کرتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ بہت جلد عرشی قریشی بھی ضمانت پر رہا ہوجائے گا۔ وہیں دوسری جانب سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے اس کامیابی پر اپنے وکلاء کو مبارکباد پیش کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ عرشی قریشی ورضوان خان جنہیں ارناکلم کی عدالت پہلے ہی ضمانت پر رہا کرچکی ہے اور رضوان خان کو ضمانت دینے والی ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت بہت جلد عرشی قریشی کو بھی ضمانت پر رہا کردے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضمانت پررہائی گوکہ مکمل کامیابی نہیں ہے، مگر ہمیں ہمارے وکلاء اور عدالت پر مکمل اعتماد ہے کہ یہ ملزمین بہت جلد مقدمے سے بھی بری ہوجائیں گے۔ ہم اس کی پیروی ان کی مکمل برأت تک کریں گے اوران کی برأت کے بعد ہم انہیں غلط طریقے سے مقدمے میں پھنسانے والے پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کریں گے۔اس مقدمہ کی کا میابی پرامیر الہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری صدر جمعیۃ علماء ہند ،اور قائد ملت مولانا سید محمود اسعد مدنی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند نے جمعیۃ علماء مہا راشٹر کو مبا رکبادی پیش کی ہے ۔اور امید ظاہر کی ہے اسی طرح دیگر بے قصور محروسین کو بھی انشاء اللہانصاف ملیگا۔