ہندوستان کی قدروں اوراصولوں کوکھوکھلا کردیا گیا ہے، جس سے جمہوریت کوزبردست خطرہ لاحق: مولانا سید ارشد مدنی
01:48PM Fri 15 Mar, 2019
Share:
نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس مرکزی دفترمفتی کفایت اللہ میٹنگ بہادر شاہ ظفرمارگ، نئی دہلی میں مولانا سید ارشد مدنی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ واضح رہے کہ مولانا سید ارشد مدنی نے آج مجلس عاملہ کی موجودگی میں نئے ٹرم کی صدارت کا چارج لیا اوراسی کے ساتھ موجودہ قومی مجلس عاملہ تحلیل کردی۔ اب جمعیۃ علماء ہند کے صدرنئی مجلس عاملہ نامزد کرکے ان کے مشورہ سے جنرل سکریٹری کو نامزد کریں گے۔
میٹنگ میں ملک کے موجودہ حالات اورقانون وانتظام کی بد ترصورتحال پرگہری تشویش کا اظہارکیا گیا اورساتھ ہی دوسرے اہم ملی اورسماجی ایشوزپرتفصیل سےغوروخوض ہوا اور ان پرمجلس عاملہ کے ممبران نے کھل کراپنی رائے اوراحساسات کا اظہارکیا۔ مولانا سید ارشد مدنی نے مجلس عاملہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند ہمیشہ سے قومی یکجہتی، وطنی اتحاد کی داعی اورآزادی وطن کی علمبرداررہی ہے، اس کا یہ امتیازہےکہ یہ وسیع اورعظیم الشان ملک جو ہمارا وطن عزیزہے۔
ملک مختلف فرقوں اورملتوں کا گہوارہ
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ صدیوں سے مختلف فرقوں اورملتوں کا گہوارہ اورمختلف زبانوں اورعقائد ورسوم کا سنگم رہا ہے، وطنیت کے لازوال رشتہ نے اس ملک کی وسیع آبادیوں کو زبان، تہذیب اوررسم ورواج کے تمام اختلاف کے باوجود ہمیشہ ایک بنائے رکھا ہے۔ یہی وحدت اورباہمی تعلقات کی خوش گواری اورتعاون درحقیقت اس ملک کی سب سے بڑی قوت اوراس کے استحکام وترقی کی بنیادہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اہم اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہورہاہے ، جب ملک نامساعد حالات کا شکارہے اور پارلیمانی الیکشن کی گہما گہمی شروع ہوچکی ہے۔
مولانا ارشد مدنی نے مزید کہا کہ آزادی سے قبل کی تاریخ ہویا اس کےبعد کی جمعیۃعلماء ہند نےہرہرموقع پراپنے خیالات وافکارسے ملک وقوم کوایک روشنی دکھائی ہے، جمہوریت کی بقاہو، آئین کی پاسداری ہویا ملک کےاتحادویکجہتی کا مسئلہ جمعیۃعلماء ہند نے ہرنازک موقع پررہنمائی کا اہم فریضہ انجام دیا ہے، اس اجلاس میں تمام اہم مسائل پرگفت وشنید ہوئی اور اس طرح کے نامساعد حالات کا مقابلہ کس طرح کیا جائے، اس پر بھی تفصیل سے غورو خوض ہوا اورمتعدد اہم تجاویزپیش کی گئیں۔ مولانا ارشد مدنی نےکہا کہ ملک بلاشبہ تاریخ کےسب سے نازک دورسےگزررہا ہے، جن قدروں اوراصولوں پرآزادہندوستان کی بنیاد رکھی گئی تھی اسے دانستہ کھوکھلا کردیا گیا ہے، چنانچہ آئین وقانون کی بالادستی کے ساتھ ساتھ جمہوریت کو بھی زبردست خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔
ملک پرمخصوص نظریہ کو مسلط کرنے کی کوشش
انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص نظریہ کو ملک پرمسلط کرکے اس کے آئینی کردار کو تباہ کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں ، اقلیتوں کے حقوق پر مسلسل شب خوں ماراجارہا ہےاوراگریہ سب کچھ آئندہ بھی اسی طرح جاری رہا توہمارے اکابرین نے جس ہندوستان کا خواب دیکھا تھا وہ نہ صرف اپنی تعبیرسے محروم ہوجائے گا بلکہ ٹوٹ کربکھرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ہم پردوہری ذمہ داری آن پڑی ہے، ایک طرف جہاں ہمیں ملک میں اتحاد، امن یکجہتی کوفروغ دینا ہے، وہیں انصاف پسند لوگوں کوساتھ لے کرہمیں ان طاقتوں سے لوہا بھی لینا ہے، جوملک کوایک نظریاتی مملکت میں تبدیل کردیناچاہتی ہیں۔
مسلمانوں کے صبروتحمل کا مظاہرہ مثالی
مولانا مدنی نےکہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوتارہا ہے اسے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں، نت نئے تنازعات کھڑا کرکے مسلمانوں کو نہ صرف اکسانے کی کوششیں ہوئی ہیں بلکہ انہیں کنارے لگا دینے کی منصوبہ بند سازشیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ ایک مخصوص نظریہ پرمبنی قوم پرستی کا پروپیگنڈہ کرکے مسلمانوں کی حب الوطنی پرسوال کھڑے کئے جاتے رہے ہیں، لیکن اس سب کے باوجود مسلمانوں نے جس صبروتحمل کا مظاہرہ کیا ہے وہ مثالی ہے اوراس کے لئے ملک کا ایک بڑا انصاف پسند طبقہ بھی انہیں تحسین پیش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آگے بھی اسی طرح صبروتحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ فرقہ پرست طاقتیں ہمیں آئندہ بھی مختلف بہانوں سے اکسانے اور مشتعل کرنے کی کوششیں کرسکتی ہیں۔
مسئلہ کشمیرکا حل ظلم وجبراوربندوق سے ممکن نہیں
مولانا سید ارشد مدنی نے اپنے خطاب میں کشمیرکا خصوصی طورپرذکرکیا اورکہا کہ جمعیۃعلماء ہند کا ابتداسے ہی یہ موقف ہےکہ کشمیرہندوستان کا ایک اٹوٹ حصہ ہے، اس لئے کشمیرہی نہیں کشمیری عوام بھی ہمارے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مسئلہ کشمیرکا حل بندوق اورظلم وجبرسے نہیں نکل سکتا، بلکہ اسے آپسی بات چیت کےذریعہ ہی حل کیا جانا چاہئے، صرف بندوق کے بل بوتے پرحالات بد سے بدترہوتے جائیں گے۔ ہمیں کشمیریوں کا دل جیتے کی اشدضرورت ہے ، انہوں نے کشمیرکےعوام سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ وادی میں امن اتحاداورمشترکہ تہذیبی وراثت کو بچائے رکھیں کیونکہ یہی کشمیرکی روح ہے اور یہی کشمیریت ہے، اس کے ساتھ حکومت پر یہ بھی ضروری ہے کہ بہکے ہوئے نوجوانوں کو راہ راست پرلانے کی کوشش کرے اوران کے دلوں کوجیتاجائےاورانہیں باورکرایا جائے کہ اپنے حقوق اورمطالبات منوانے کےلئے جمہوریت نے جوہمیں راستہ بتایا ہے وہی درست راستہ ہے۔
بابری مسجد مصالحت: سپریم کورٹ کی منشاء
بابری مسجد ملکیت مقدمہ کے پس منظرمیں مولانا ارشد مدنی نے اجلاس میں کہا کہ سپریم کورٹ کی منشاء کے مطابق ہم مصالحت کے لئے راضی ہوئے ہیں، جس کے لئے فریقین کو اپنے اپنے موقف میں لچک پیداکرنی ضروری ہوگی۔ آسام میں این آرسی کو لیکرعوام میں جو خوف و ہراس ہے اس پربھی انہوں نے گہری تشویش کا اظہارکیا اورکہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے دی گئی ڈیڈ لائن 31 جولائی کوختم ہونے والی ہے جس کی وجہ سے این آرسی کی حتمی فہرست تیارنہیں ہوسکی ہےاورپارلیمانی الیکشن کا اعلان ہوچکاہے، ایسے میں جن شہریوں کا نام کسی وجہ سے این آرسی میں نہیں آسکا ہے وہ اس خوف کا شکارہیں کہ اب ان کا کیا ہوگا، انہیں ووٹ دینے کا حق ملے گا بھی یا نہیں۔ مولانا مدنی نے وضاحت کی کہ الیکشن کمیشن نے اعلان کیا تھا کہ جب تک این آرسی کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا تب تک ان لوگوں کو جن کا نام ووٹر لسٹ میں ہے ان کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہوگا، جن لوگوں کا نام این آرسی میں شامل نہیں ہوسکا ہے انہیں غیرملکی نہیں سمجھا جائے گا اور انہیں ووٹ دینے کا حق حاصل ہوگا۔