میسور کے سینٹ فلومناس کالج میدان میں جمعیتہ علماء میسور کے زیر اہتمام ملی وقومی یکجہتی کانفرنس
02:27PM Mon 1 May, 2017
میسور (بھٹکلیس نیوز) میسور کے سینٹ فلومیناس کالج میدان میں جمعیتہ علماء میسور کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان اورتاریخ ساز اجلاس بعنوان قومی یکجہتی کانفرنس منعقد کی گئی۔ جناب عبد العزیز چاند صاحب نے تمام معزز حاضرین اور مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔
مدرسہ مسیح الامت کے طلبا ء کی جانب سے جمعیت کا ترانہ پیش کیا گیا۔ ،مہمانان خصوصی میں ستور مٹھ کے سوامی شری دیشی کیندار سوامی جی ، بشپ آف میسورکے اے ویلیم ، میسور کے سرقاضی حضرت مولانا محمد عثمان شریف صاحب ،سکھ طبقہ کے رہنما ء میسور گردوارے کے سابق صدر مہاراجہ رنجیت سنگھ کے علاوہ مفتی سید تاج الدین ، آل انڈیا ملی کونسل شاخ میسور ضلع کے صدرحضرت مولانا محمد ذکا اللہ صاحب صدیقی ، مولاناشبیر احمد صاحب رشادی، صدر جمعیت علماء میسور،جنرل سکریٹری مولانا حافظ ارشد احمد ،سابق مئیر و کارپوریٹر ایوب خان ، ایم کے گروپ کے چیرمن ڈاکٹر مکرم اللہ خان ، کا ر پوریٹر و ریاستی حج کمیٹی کے رکن سہیل بیگ اور دیگر مقامی علماو عمائیدین شہر شریک رہے ، اجلاس کی نظامت ادا کر رہے حضرت مولانا مفتی معصوم ثاقب نے کہا کہ قومی مسائل کو قومی بنیاد پر یکجا ہونا ہی قومی یکجہتی کا نام ہے اور جمعیتہ کا ہمیشہ سے یہی موقف رہا ہے اگر ہم میں قومیت کا احساس نہیں تو ملک کی ترقی ممکن نہیں اس لئے قومی ورثہ کی بقاء ہی حقیقی معنوں میں دیش بھگتی ہے ،سکھ طبقہ کے رہنما ء میسور گردوارے کے سابق صدر مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کہاکہ میں میسور اور کرناٹک کے سکھ نہیں بلکہ اس ملک کے تمام سکھ براداری کی جانب سے اس اجلا س کی مبارکبا د پیش کرتا ہوں جہاں تک جمعیتہ کی کا وشوں کا تعلق ہے اس جماعت نے ملک میں ایک تاریخ رقم کی ہے میرا ماننا ہے کہ اگر اس ملک کا ہر مسلمان اس جمعیتہ کے ساتھ شانہ بشانہ چلے تو تو آنے والے دس سال بعد اس ملک میں مسلمانوں کی شان ہی کچھ اور ہو گی ،
ڈاکٹر سید عقیل احمد ، سابق وائس چانسلر ، ینوپیا یونیورسٹی ، منگلور بزبان انگریزی خطب کرتے ہوئے جمعیتہ کی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالی ،بشپ آف میسورکے اے ویلیم نے کہا کہ ہمارا ملک ایک منفرد ملک ہے جہاں ہر قوم کے لوگ مختلف زبان اور کلچر کے ساتھ زندہ ہیں ہمیں ایک گلشن کی مانند رہنا ہے تاکہ اس گلشن میں موجود تمام پھولوں کی مہک سے ہم تمام کی روح تازہ رہ سکے ہمیں اس اجلاس میں اس احساس کو لیکر چلنا ہے کہ ہم ایک ہیں اور ہمیشہ ایک رہیں گے ، ستور مٹھ سوامی شری دیشی کیندار سسوامی جی نے کہا کہ ہمارے اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب و تمدن ساری دنیا میں ایک مثال ہے اس ملک کی آزادی میں تمام قوموں نے برابر حصہ لیا ہم تمام ایک اولاد کی مانند ہیں اگر ہم تاریخ دیکھیں تو اس ملک میں ہمیشہ سے امن و رواداری کا گہوارہ رہا ہے کیونکہ ہر قوم کی مذہبی تعلیمات میں دیگر قوموں کے احترام کے ہی تعلق سے درس دیا گیا ہے ہمارے میسور کے آشرم میں کئی مرتبہ آنجہانی اس ملک کے سابق صدر ہند عبدالکلام کا آنا ہوا ہے انہوں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ انہوں نے امریکہ میں انہیں کئی دیگر سائنس دان طبقہ سے اپنے اپنے ملکوں کی طاقت کے سلسلہ میں بتایا اور جب ان سے سوال کیاگیا تو انہوں نے کہا تھا کہ میرے ملک میں جہاں ہر طبقہ دیگر زبانوں میں موجود ہے جب کبھی ملک کی بات آئے تو وہ ایک ہی زبان میں شان سے اس ملک کو اپنا اور اس ملک کے ہر باشندہ کو اپنا بتاتے ہیں یہی اس ملک کی شان ہے اور ہمیشہ رہے گی انکا ماننا تھا کہ جب کسی پارک میں ایک ہی پانی ہوا اور دھوپ سے درخت و پودے پھل پھول سکتے ہیں تو ہم انسان کیوں نہیں ؟
ریاستی وزیر برائے تعلیم، اوقاف اور اقلیتی بہبود ، جناب الحاج تنویر سیٹھ نے کہا کہ جمعیتہ علماء ہند جسکے عنقریب سو سال کی مدت پوری ہونے والی ہے اس جماعت نے ملک میں ہمیشہ سے انصاف کا پرچم لئے زندہ ہے یہ بات اپنے آپ میں ایک فخر کی بات ہے اس لئے جمعیتہ کا آج ملک کے ہر سکیولر انسان کے دل میں عظمت ہے اور رہے گی ،کلیدی خطاب فر ماتے ہوئے جمعیتہ علماء ہند کے صدرحضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب نے کہا کہ جمعیتہ کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے جمعیتہ کی بنیاد ہی سے انصاف پسند رہی ہے ہم اس ملک میں تیرہ سوسال سے ہیں یہاں کا راجپوت ،ٹھاکر اور برہمن بھی ہیں اور ہندو مسلمان بھی بستے ہیں پہلے اس ملک کے مزاج میں فرقہ واریت نہیں تھی لیکن بعد ازاں ملک میں ایک ایسا طبقہ آیا جو نفرت اور مذہب کی بنیاد کو اپنا مقصد بنایا ہے مگر جس طر ح سے ہمیشہ ہوتا رہا ہے اس ملک کے سیکو لر طبقہ انکی ہر چال کو ناکام بنائے گا کیونکہ اس ملک کی اکثر یت فر قہ پرست نہیں ہے مگر ہمیں موجود تمام حالات سے ضرور باخبر رہنا ہے آج اس ملک کے دستور کے مطابق انصاف دئے جانے میں کوتائی کی جارہی ہے جو کسی المیہ سے کم نہیں ہے ان فر قہ پرستوں کی دشمنی صرف مسلم قوم سے ہی نہیں بلکہ سکھ اور دیگر قوموں کو بھی نشانہ بنایا گیاہے مولانا سید ارشد مدنی نے اللہ کے حکم اور حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات پر روشی ڈالتے ہوئے فر مایا کہ پہلے اپنے کردار پر نظر ڈالو کیونکہ واقعی اصلاح چاہتے ہوتو اپنے آپ کو بدلنا ہوگا طلاق ثلاثہ اور دیگر کئی سازشوں کے تعلق سے مجمع میں شامل ہزاروں افراد سے سوال کیا کہ کیا اس مجمع میں چار شادیاں رچانے والا کو ئی ایک مرد ہے جیسا کہ ہم پر الزام لگایا جاتا ہے مسلم قسم چار چار شادیاں صرف آبادی کو بڑحانے کی خاطر کر رہے ہیں ایسے کئی منظم سازشوں کو ہمیں با شعور پیمانے پر باخبر ہوکر زندگی گذارنا ہے،حافظ ارشد نے تمام مہمانان کا دلی شکریہ ادا کیا اور حضرت مولانا سید ارشد مدنی کی دعا پراجلاس کا اختتام پزیر ہوا۔ حضرت مولانا پی یم ذکریا صاحب والا جاہی، حضرت مولانا سید شاہ ولی اللہصاحب، محمد نذیر احمد سابق رکن بی ڈی اے، حضرت مولانا مفتی سید تاج الدین صاحب، حضرت مولانا سلمان احمد صاحب ندوی، حضرت مولانا محمد نسیم صاحب ، پروفیسر کے یس رنگپا، سابق وائس چانسلر، یونیورسٹی آف میسور، ڈاکٹر سید شکیب الرحمن صاحب ،ریٹائرڈ پرنسپال، شری جئے چامراجیندرا کالج آف انجینئرنگ ،
اور دوسرے کئی معزز شخصیات اس موقع پر موجود تھے۔ ہزاروں افراد نے پورے صبرو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانفرنس کے اختتام تک اپنی کرسیوں پر بیٹھے رہے۔ جمعیتہ علماء میسور کے والینٹروں نے بڑی ہی خوش اصلوبی کے ساتھ جلسہ کے اختتام تک خدمت انجام دی اور ٹرافک کے نظام کو اچھی طرح قابو میں رکھا۔ ہزارون افرد نے اس کانفرنس میں شرکت کئے کانفرنس کو کامیاب کیا۔
اس موقع پر حضرت مولانا سید ارشد مدنی نے بی بی عائشہ ملی ہاسپٹل کی جانب سے کردہ" عائشہ ہیلتھ کارڈ " کا اجراء کیا ۔ اس کارڈٖ کے ذریعہ ممبر شپ حاصل کرنے افراد کو رعایتی چارجس میں اور خاص کر زچکی کے لئے بہت ہی کم خرچ پر مکمل دیکھبالی کے ساتھ علاج کیا جائگا۔