حکومت مسلم خواتین کی ہمدردنہیں،اسلام کے نظام طلاق پرغیرمسلم بھی مطمئن: مولانامحمدولی رحمانی

03:12PM Fri 18 Nov, 2016

کولکاتہ(ایف او یس)اسلام کا قانون طلاق ثلاثہ اس وقت پورے ملک میں موضوع بحث بنا ہوا ہے اور اسے اسلام کا ایک جابرانہ قانون قراردیاجارہا ہے ، جسے مسلمان اپنا کر مسلم عورتوں کو ظلم وجور کی چکی میں پیس رہے ہیں۔یہ وہ غیرمنصفانہ اعتراضات ہیں جوالکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیاپر ہر وقت گردش کرتے رہتے ہیں۔ان اعتراضات کامولانا محمدولی رحمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ نے عالیہ یونیورسٹی پارکس سرکس کیمپس میں واقع آڈیٹوریم میں طلبا وطالبات کی جانب سے منعقدایک پروگرام میں جواب دیا۔انہوں نے مسلمانوں کو خبردار کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ اس افواہ سے ہمیں دلبرداشتہ ہونے کی ضرورت ہے اور نہیں اپنے عائلی قوانین کو شک کی نگاہ سے دیکھنا ہے۔ ہمارا قانون منزل من اللہ ہے۔ اس میں کسی کمی بیشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ رہی بات طلاق ثلاثہ کی تو مسلمانوں کو یہ بات اچھی طرح ذہن میں رکھنی ہوگی کہ طلاق اور تعددا زدواج کا تناسب مسلمانوں کا ہندؤں سے بہت کم ہے اور یہ گورنمنٹ انڈیا کی طرف سے جاری سینسر کی رپورٹ ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ حکومت کو نہ مسلم خواتین خواتین سے بالکل ہمدردی نہیں ہے بلکہ وہ انہیں برباد کرنا چاہتی ہے۔اگر حق مساوات کا ہی معاملہ اور عورتوں کے حق میں انصاف کی بات کا مسئلہ ہے توپہلے ہمارے وزیراعظم اپنی بیوی یشودھا کو ان کا جائز حق دے دیں اور انہیں اپنی بیوی تسلیم کرلیں۔ انہوں نے ایک مثال یہ بھی دی کہ سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ گیا زمین کے بٹوارے کا فریق ایک مرد تھا تو دوسری عورت مگر حکومت نے عورت کے خلاف اپنا فیصلہ سنایااورمردکومالامال کردیا۔ اس وقت جینڈر جیسٹس کہاں تھا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی سماج میں طلاق کا رواج ہونا چاہئے شدید ضرورت کے پیش نظر ۔ اسلام نے اس کی گنجائش رکھی ہے تاکہ شادی کے بعد ناگزیر حالات کے پیش نظر مرد اورعورت ایک دوسرے سے الگ ہوکر اپنی سکون کی زندگی بسر کرسکیں۔ ہندوں میں پہلے تو طلاق بالکل ممنوع تھا ، مگر بعد میں اسلام کے نظام طلاق کودیکھ کر طلاق کی گنجائش رکھی گئی۔ مگر اختیار مجسٹریٹ کو دیا گیا۔ جس فیصلہ آتے آتے ایک طویل عرصہ گزرجاتا ہے اور اس وقت مرد اور عورت بوڑھی ہوجاتی ہے۔انہوں نے اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ بھی فرمائی کہ ہندؤں کے قانون طلاق سخت ہونے کی وجہ سے بہت سے ہندو بھائی اسلام قبول کرلیتے ہیں۔ مولانا یہ بھی فرمایا کہ آئین کی بعض دفعات کے تحت ہرکسی کواپنے مطلب کی آزانہ زندگی بسر کرنے کی اجازت ملی ہوئی ہے۔ اس میں مداخلت یا چھیڑ چھار بالکل درست نہیں ہے۔ممبرپارلیمنٹ جناب سلطان احمد نے فرمایا کہ موجودہ حکومت مسلمانوں کو بالترتیب نئے نئے اور پریشان کن مسائل میں الجھا یا جارہا ہے ، تاکہ مسلمانوں نہ تو ترقی کرسکیں اور وہ خوف وہراس کے سہارے ہندوستان میں زندگی بسر کریں۔ڈاکٹر نورالزماں ودھائک نے اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ حکو مت جو ہتھکنڈا استعمال کررہی ہے ، اس سے ہمیں گگبرانے کی قطعی ضرور ت نہیں ۔ منفی رویہ اسلام اور مسلمانوں کا شعار نہیں ہے۔ اچھے بڑے دنآتے رہیں اور جاتے رہیں گے ۔ ہر دو صورت میں ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ہمارا مسلم پرسنل لا لے دھن کی طرح مطلق نہیں ہے کہ اسے صاف کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ سابق صدر شعبہ عالیہ یونیورسٹی ڈاکٹر محمد شمیم اکٹر قاسمی نے اپنی تقریر میں فرمایاکہ مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کا جوا رادہ موجودہ حکومت رکھتی ہے ،اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس کے دل میں چور ہے ۔ وہ مسلمانوں سے ہمدردی نہیں رکھتی ۔ طلاق ثلاثہ تو ایک بہانہ ہے ،اصل نشانہ مذہبی آزادی ہے۔انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ اسلام کا عائلی قانوں دنیا کے ہرقانون سے بہتر اور صاف ستھرا ہے۔ یہ سچ ہے کہ بعض مسلمان جذباتی ہوکر طلا ق ثلاثہ ایک ہی قسط میں دے دے دیتے ہیں ، جو درست نہیں ہے ۔مگر طلا ق تو واقع ہوجائے گی ۔ اسے طلاق نہ ماننا یا ایک طلاق ہی مانناکہاں کی تک ہے۔ انہوں نے بھی فرمایا کہ حکومت واقعی مسلمانوں کے تئیں سنجیدہ ہے تو وہ ہمارے بہت بڑے بڑے مسائل کا حل کیوں نہیں نکالتی اور ہمیں کیوں غریبی میں ڈھکیلناچاہ رہی ہے ۔ہمارے لئے تعلیم اور روز گار کے بہتر مواقع کیوں نہیں فراہم کرتی۔ ڈاکٹر قاسمی نے یہ بھی کہا کہ خود ہمارے ہندوستان میں ہندوں کا جو مذہنی نظام قانون ہے نکاح، طلاق،ورثت ، تعدد ازدواج ، نکاح بیوگان اور ستی کا وہ خود اپنے آپ میں بڑا بھونڈا سا لگتا ہے اور جسے آج ہندو خود پسند کرنے کو تیا ر نہیں ہے۔آخر میں انہوں نے جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ سے درخواست کی اس ہندوستانی مسلمان عائلی قوانین کے تئیں کا فی پریشان اور مایوس نظر آرہا ہے ۔ مسلم پرسنل لا کے تحت متفقہ لا ئحہ عمل تیار کیا جانا چاہئے تاکہ مسلمانوں کی بے چینی دور ہو۔صدر شعبہ ڈاکٹر محمد مسیح الرحمن نے کہا مسلمانوں کا ایک بڑا طببقہ چاہے پڑھا لکھا ہو یا کم پڑھا لکھا ۔ مسلم پرسنل اور عائلی قانون پر بڑی اٹ پٹانگ باتیں کرتا نظر آتا ہے۔ لیکن خود اسے اس کا مطلب نھیں معلوم ہے۔ لہٰذاضرورت ہے کہ خاص کرہم مسلمان آئین ہند کی اس دفعہ کو اچھی طرح سمجھیں جس میں ہر ہندوستانی کو اپنے دین ومذہب اور شریعت پر عمل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یونیورسٹی کے چارسوسے زائدطلبا واساتذہ نے ا س پروگرام میں شرکت کی ۔ مسلم پرسنل لاء بچاؤکنونشن کو عالیہ یونیورسٹی کے طلبا نے آرگنائز کیا۔ اس کے روح رواں الامین، معیدل اور دوسرے طلبا تھے۔