مرحوم وڑاپا صاحب شابندری نیک کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہنے والے تھے
03:29PM Sat 18 Feb, 2017
[dropcap][/dropcap]
مسجد معاذ بن جبل میں مرحوم عبدالقادر وڑاپا صاحب کا تعزیتی اجلاس
بھٹکلیس نیوز / 18 فروری، 17
بھٹکل / (رضوان گنگاولی) جناب شابندری شمش الدین صاحب ، محمد محسن شابندری صاحب و فیاض شابندری صاحب کے والد محترم مرحوم عبدالقادر وڑاپا صاحب کا تعزیتی اجلاس کل بعد نماز عشاء مسجد معاذ بن جبل میں منعقد ہوا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد مہتمم جامعہ مولانا مقبول صاحب کوبٹے ندوی نے اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تعزیتی اجلاس در اصل نئی نسل کو ان شخصیات سے متعارف کراکر ان کی صفات کو منتقل کرنے کا ذریعہ ہیں حلانکہ شرعی اعتبار سے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
مولانا نے مرحوم کی صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم چالیس سال قبل حراء کے قریب سےیہاں آباد ہوئے اوراس وقت یہاں یکا دکا گھر موجود تھے ۔یہاں مسجد نہ ہونے کے سبب وہ نماز کے لئے نوائط کالونی مسجدجاتے تھے۔ تاہم اس وقت سے مرحوم کو اس علاقہ میں مسجد کی تعمیر کرنے کی شدیدخواہش تھی۔ مولانا نے کہا کہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ یہاں مسجد تعمیر ہوئی۔اور اس وقت سے ٹرسٹی تھے اور پہلے دن سے وہ مسجد سے متعلق تھے۔
مولانا نے مرحوم کے دینی حمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اندر دینی حمیت کا یہ عالم تھا کہ جس وقت بھٹکل میں داڑھی رکھنے کا رواج نہیں تھا اس وقت ہی انہوں نے داڑھی رکھی تھی۔ مولانا نے مرحوم کی کئی ایک صفتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت ہی محنتی آدمی تھے۔وہ بیک وقت تین مسجدوں کے صدر تھے۔ وہ ہر نیک کام کے لئے آگے بڑھتے تھے اور محلہ کے لوگوں کے ساتھ ان کا مضبوط تعلق تھا۔ آخر وقت میں وہ اسلامک ویلفئیر سوسائٹی سے وابستہ رہے ۔
مولانا محترم نے آخر میں کہا کہ اچھے کام کیا کریں کیوں کہ اچھے کام کرنے والوں کو لوگ ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔
چیف قاضی مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین جناب مولانا خواجہ معین الدین اکرمی صاحب مدنی نے اس موقع پر مرحوم کی صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے کسمپرسی کی حالت میں بھی تعلیم حاصل کی۔ مولانا نے کہا کہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کے بچوں میں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوئے خصوصاً محسن شابندری صاحب جنہیں کمپویٹر محسن کہا جاتا ہے انہوں نے بھی بہت ہی ہمت کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور آئی ٹی کی دنیا میں اپنی چھاپ چھوڑی۔
مولانا نے مرحوم وڑاپا صاحب کو بہت ہی جفا کش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آخری عمر میں بھی اسلامک ویلفئیر سوسائٹی میں سائیکل پر جایا کرتے تھے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آخر وقت تک وہ اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرنے کے قابل تھے۔
مولانا نے آخر میں کہا کہ آج کا مسلمان صرف اپنی ہی فکر میں ڈوبا ہوا ہے اسے دوسرے کی فکر نہیں ہےجیسا کہ ہم سے پہلے ہمارے بزرگوں میں ہوتی تھی۔
اس کے علاوہ اس موقع پر جناب محسن شابندری صاحب اور دیگر حضرات نے مرحوم کے خوبیوں کا تذکرہ کیا اور ان کے حق میں مغفرت کی دعا۔ اجلاس کا اختتام دعا کے ساتھ ہوا۔