ریاست بھر میں نجی اسپتالوں کے ڈاکٹروں اور عملہ کی ہڑتال سے مریضوں کو پریشانی

02:24PM Sat 4 Nov, 2017

45؍ہزار سے زائد اسپتال، نرسنگ ہوم اور کلینکس بند بھٹکلیس نیوز / 04 نومبر،2017 بنگلورو۔؍نومبر (ذرائع) ریاست کے 45؍ہزار سے زائد نجی اسپتالوں اور نرسنگ ہومس کے ڈاکٹروں اور عملے کی جانب سے 03/نومبر کو کی گئی 24؍گھنٹے ہڑتال کی وجہ سے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کرناٹک خانگی طبی ادارہ جات کنٹرول کرناٹک پرائیویٹ میڈیکل اسٹیبلشمنٹ (کے پی ایم ای) ایکٹ 2007 میں ترمیم کے خلاف انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کے تعاون سے نجی اسپتالوں کی تنظیم کی جانب سے طلب کردہ ہڑتال سے ریاست بھر میں عام مریضوں کو سخت پریشانی اٹھانی پڑی کئی مقامات پر ہڑتال کی پیشگی اطلاع نہ ہونے سے مریض اسپتالوں پر حاضر ہوکر وہاں نوٹس بورڈ پر لگی ہڑتال کی اطلاع دیکھ کر مایوس ہوکر واپس لوٹے۔ کئی مقامات پر ہڑتال کے خلاف مریضوں اور ان کے رشتہ داروں نے غصہ کا اظہار بھی کیا۔ انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کرناٹک یونٹ کے صدر ایچ ۔ این ۔ راوندرا نے بتایاکہ کے پی ایم ای ایکٹ میں ترمیم کے ذریعہ نجی اسپتالوں میں علاج ناکام ہونے اور اسپتال کی فیس میں فرق پر ڈاکٹروں کو سزا دینے کی نکات شامل کئے جانے کے خلاف ایک روزہ ہڑتال کی گئی اس کے باوجود حاملہ خواتین اور اسپتالوں میں داخل مریضوں کو کا علاج جاری رکھاگیا۔ نجی اسپتالوں کی ہڑتال کے پیش نظر سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں اور غیر طبی عملہ کی چھٹی منسوخ کئے جانے کے باوجود مریضوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ بنگلور، میسور، بیلگاوی ،ہبلی، دھارواڑ، چکمگلور ،بیدر ، بلاری ،کلبرگی، وجئے پور، کولار، چکبالاپور سمیت مختلف مقامات پر مریضوں کو نجی ڈاکٹر دستیاب نہ ہونے سے سرکاری اسپتالوں کی جانب رخ کرنا پڑا۔ بنگلور میں ہزاروں اور میسور میں 200؍ سے زائد نجی اسپتالوں نے ہڑتال کی بھرپور حمایت کی۔ ٹمکورمیں تمام کلینک ، نرسنگ ہوم، بند رہے۔ ڈینگو، وائرل بخار، کھانسی سمیت دیگر امراض میں مبتلا مریض بے حد متاثر ہوئے۔ باگل کوٹ ضلع ہنگند تعلقہ کے الکل میں ہڑتال کی وجہ سے زچگی کے لئے آئی ایک خاتون کو نجی اسپتال سے واپس روانہ کئے جانے کا غیر انسانی واقعہ بھی پیش آیا۔ تعلقہ کے چکاکوڈگلی تانڈا کی رہنے والی 25؍سالہ چائترا کو الکل کے ایک نجی اسپتال میں زچگی کے لئے لایاگیا لیکن ہڑتال کی وجہ سے ڈاکٹروں نے زچگی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایمبولینس میں اسپتالوں کے چکر کاٹنے سے چائترار کی حالت نازک ہوگئی جس کے بعد اس کو فوری سرکاری اسپتال لے جایاگیا۔ اسی طرح میسور میں تمام نجی اسپتالوں کے ڈاکٹروں نے جے کے میدان میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ تقریباً دو ہزار ڈاکٹروں نے اپنی خدمات معطل رکھیں۔ ایمرجنسی اور حاملہ خواتین کو چھوٹ دی گئی۔ اس کے علاوہ دیگر مریضوں کو واپس روانہ کردیاگیا۔ وجئے پور،کلبرگی ،باگل کوٹ، بلاری ، دھارواڑ میں بھی یہی حال رہا۔ جنوبی کنڑا ضلع میں 3؍ہزار سے زیادہ ڈاکٹروں نے سڑکوں پر اترکر احتجاج کیا۔ صورتحال کا مقابلہ کرنے سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں کو چوکس رکھاگیا تھا۔ محکمۂ صحت نے بھی صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے اپنے عملہ کو تیار رہنے کی پہلے ہی ہدایت دے رکھی تھی۔ اس سلسلے میں ریاستی وزیر برائے صحت وخاندانی بہبود رمیش کمار نے کہاکہ نجی ڈاکٹروں اور کے پی ایم ای ایکٹ کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔ کس مقصد کے تحت ہڑتال کی گئی اس کا انہیں علم نہیں ہے۔ انہوں نے بتایاکہ احتجاج کرنے کیلئے ہر ایک کو حق ضرور ہے ۔لیکن احتجاج سے قبل انڈین میڈیکل اسوسی ایشن نے حکومت سے کسی بھی طرح کی کوئی بات چیت نہیں کی۔ وزیر صحت نے بتایا کہ قوانین مرتب کرنے سے قبل اسپتالوں کے ڈاکٹروں کے اسوسی ایشن کے عہدیداران سے صلاح مشورے بھی کرچکے ہیں جس کے بعد ہی جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری اسپتالوں میں جدید مشنریس کے ذریعہ بہتر سے بہتر علاج کیا جارہا ہے اور علاج بھی مفت کیا جاتا ہے۔ انہوں کہاکہ حکومت نے جہاں سرکاری اسپتالوں میں بڑے سے بڑا علاج بھی مفت کررہی ہے وہیں ہائیٹک سہولتیں بھی مہیا کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ سرکاری اسپتال نجی اسپتالوں سے کم نہیں ہیں۔ چند سرکاری اسپتالیں جدید سہولیات سے محروم ہیں۔ ایسے اسپتالوں کی نشاندہی کرکے یہاں پر بھی جدید آلات اور مشنریس فراہم کرکے انہیں بھی ہائیٹک بنایا جائے گا۔ جنتادل (سکیولر) کے ریاستی صدر وسابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے کہاکہ نجی اسپتالوں کے لئے قوانین میں ترمیم کرکے اس کو جاری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس مسودہ کی جنتادل (سکیولر) بلگاوی میں ہونے والے اسمبلی سیشن کے دوران سخت مخالفت کرے گی۔ انہوں نے بتایاکہ اس سلسلے میں وہ ریاستی گورنر کو بھی ایک مکتوب روانہ کریں گے۔