ہندوستان میں کورونا انفیکشن سے پہلے عوامی نمائندہ کی موت
10:55AM Wed 10 Jun, 2020
ہندوستان میں کورونا کے کیسز لگاتار بڑھتے جا رہے ہیں گزشتہ کئی دنوں سے تو روزانہ تقریباً 10 ہزار نئے معاملے سامنے آ رہے ہیں اور اموات کی تعداد میں بھی لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ اس درمیان کورونا انفیکشن کی وجہ سے ڈی ایم کے رکن اسمبلی جے. امبازگن کی بدھ کی صبح موت واقع ہو گئی جو کہ ہندوستان میں کووڈ-19 کی وجہ سے عوامی نمائندہ کی پہلی موت ہے۔
میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق امبازگن ایک ہفتہ قبل کورونا پازیٹو پائے گئے تھے اور چنئی کے پرائیویٹ اسپتال میں ان کا علاج چل رہا تھا۔ وہ چنئی مغرب ضلع میں ڈی ایم کے سکریٹری بھی تھے اور ان کی وفات کے بعد پارٹی میں غم و اندوہ کی لہر پھیل گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ منگل کو انھیں سانس لینے میں تکلیف محسوس ہوئی تھی اور زکام و بخار کی بھی شکایت تھی جس کے بعد ان کا کورونا ٹیسٹ کرایا گیا تھا۔ اس کی رپورٹ پازیٹو آنے کے بعد وہ چنئی کے ڈاکٹر ریلا انسٹی ٹیوٹ اینڈ میڈیکل سنٹر میں علاج کرانے کے مقصد سے داخل ہوئے تھے۔
61 سالہ امبازگن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ گردے کی بیماری میں بھی مبتلا تھے اور ذیابیطس کے بھی مریض تھے، اسی وجہ سے کورونا انفیکشن کا اثر ان پر بہت زیادہ ہوا اور ڈاکٹروں کی بھرپور کوشش کے بعد بھی انھیں بچایا نہیں جا سکا۔ اسپتال کے سی ای او ڈاکٹر ایلن کمار کلیامورتی کا کہنا ہے کہ رکن اسمبلی کی حالت پیر کی شام سے بگڑ گئی تھی، انھیں آئی سی یو میں منتقل کیا گیا تھا لیکن حالات بہتر نہیں ہوئے۔ کلیامورتی کے مطابق ڈی ایم کے رکن اسمبلی امبازگن کا دل ٹھیک سے کام نہیں کر پا رہا تھا اور ایسے میں ان کی حالت نازک بنی ہوئی تھی۔